تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 446 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 446

المالي حضرت امیرالمومنین کے اس روح پر در اور درد انگیز پیغام نے جہاں درویشوں کے اندر ایک نئی روح پھونک دی وہاں حضور کے رخ انور کی زیارت اور حضور کی مجلس علم و عرفان اور پاک اور مقدس کلمات سے محرومی کا تکلیف دہ احساس کا ایک بڑھ گیا اور سیر اعلی آو دیکه، گریه دارای دور کر امام کا ایک زہرہ گداز نظر پیش کرنے گی۔حضرت مولوی عبدالرحمن صاحب پیغام پڑھ چکے تو آپ کی استدعا پر صاحبزادہ مرزاخرا حرصا اپنے عمر رسیدہ درویشوں کے ساتھ نہایت درد اور الحاج اور تفریع اور انتہال سے ایک لمبی اور پر سوز دعا کرائی۔دعا کے بعد مولوی مرا براہیم صاحب قادیانی نے پا نچھے سے ۱۲ بجے تک ذکر حبیب کے موضوع پر تقریر کی۔جو سالانہ جلسہ پر حضرت مفتی محمد صادق صاحب کا ہمیشہ محبوب موضوع ہوتا تھا۔اس تقریر کے بعد اجلا س اول ختم ہوا۔اجلاس دوم - صدر علیمہ حضرت موادی عبدار یمن صاحب نے دوسرے اجلاس سے قبل فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سالانہ جلسہ کو حج کے عالمگیر اجتماع سے تشبیہ دی ہے اور حج کی نسبت ارشاد ربانی ہے فَلَا وَرَفتَ وَلَا فُسُونَ ولا جدال في الحج (بقرہ )۔حج کے ایام میں نہتو کوئی شہوت کی بات نہ کوئی نا فرمانی اور کسی قسم کا جھگڑا تا جا نہ ہوگا۔سوان خاص ایام میں کہیں بھی ان باتوں سے پر ہیز واجب ہے۔اس اصولی ہدایت کے بعد مولوی غلام احمد صاحب ارشد مولوی فاضل نے دلکش ، دلاویز اور و بعد انگیز آواز سے سورہ یوسف (رکوع ۵۰۴) میں سے فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ الحقن بالصالحین تک کی آیات کی تلاوت فرمائی۔آپ کے بعد حافظ عبد الرحمن صاحب پشاوری نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مشہور تعظم 8 راک نہ ایک دن پیش ہو گا تو خدا کے سامنے نہایت خوش الحانی سے پڑھ کر سنائی۔ازاں بعد پہلے مولوی شریف احمد صاحب امتینی سابق مدرس مدرسہ احمدیہ نے یا اون منٹ تک خصوصیات اسلام کے عنوان پر اور پھر مولوی عبد القادر صاحب احسان نے پچیس منٹ تک زمانہ روحانی مصلح کا متقاضی ہے " کے عنوان پر تقریریں کیں دی جانی با یکی دو منٹ پر اختتام پذیر ہوا۔۲۷ فتح دسمبر ( اجلاس اول) اسی روز پہلا اجلاس بھی حضرت مولوی عبدا تین صاحب کی صدارت میں شروع ہوا۔اس سے قبل آپ نے حاضرین سمیت دعا فرمائی۔پھر عبد الرحمن صاحب ذاتی بنگالی نے سورہ بقری کی ابتدائی پانچ آیات کی تلاوت کی۔پھر میر وسیع احد صاحب گجراتی نے حضرت میر محمد اسمعیل صاحب کی مقبول عام نظر " عليك الصلوة عليك السلام