تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 448
پونے گیارہ سے بیس منٹ تک " اصلاح نفس کے ذرائع " بیان کئے۔پھر مونوی شریف احد صاحب امینی نے ” حکومت در مایا کے باہمی تعلقات اسلام اور احدیت کے نقطہ نگاہ کر کے موضوع پر بچپن منٹ تک ایک میر حاصل تقریر کی۔اسکے بعد یونسی احمد صاحب السلم نے اپنے والد ماسر محمد شفیع صاحب اسم د نسابق امیر الباری یا ملکانہ کی ایک منظم سنائی۔بعد انہاں سو بارہ بجے سے پونے ایک بجے تک مکرم صاحبزادہ مرزا خلیل احد صار پینے " برکات دعا کے مضمون پر تقریہ کیا۔اجلاس دوم - اس روز کا اجلاس دوم بشیر احمد صاحب آن گوجر انوالہ کی تقاوت سے شروع ہوا۔آپ نے سورہ الفتح کا آخری رکوع قادت کیا۔پھر یونس احمد صاحب اسلم نے ایک منظم سنائی۔ازاں بعد مولوی غلام مصطفے صاحب بد و پلی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مصائب پر صبر اور توکل علی اللہ کے موضوع پر دو جبکہ پچیس منٹ سے بتیس ۳ منٹ تک نظریہ کی جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے مصائب پر صبر کے بہت سبق آمونز واقعات سنائے۔اس کے بعد مکرم صاحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب بار ایٹ لاء نے " ہمارا قادیان کے عنوان پر تسکیں منٹ میں ایک بہت ہی دلچسپ اور ایمان افروز مقالہ پڑھا جس میں قادیان کے آباد ہو نے کی تاریخ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آباء کرام کے حالات انگریزوں کی حکومت سے قبل قادیان کے اجڑنے کے واقعات اور ایک سکھ ریاست میں پناہ لینے پر قادیان میں واپسی اور تمہارا اور رنجیت سنگھ صاحب سے چند دیہات واپس ملنے کا ذکر کر کے بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کیا مقصد تھا؟۔ہمیں قادیان کیوں پیار بی ہے؟ اور ہمارا حکومت سے اور غیر مسلموں سے کیا سلوک ہونا چاہئیے ؟ اور کیا سلوک ہوگا ؟ آپ کی تقریب کے بعد مولوی شریف احمد صاحب ایکنی نے حضرت امیر المومنین کا پیغام دوبارہ سُنایا۔آخر میں حضرت مولوی عبد از یمن صاحب جٹ صدر جلسہ نے پھر حکام اور غیر مسلم سامعین اور مقررین اور احمدی حاضرین کا شکریہ اداکیا۔اور حکم کو جماعت کی وفاداری کا یقین دلاتے ہوئے بتایا کہ جب کوئی غیرمسلم نہیں کہ سکتا که قادیان میں اپنی اکثریت کے زمانہ میں ہم نے اس کی عزت، حال اور جان پر کبھی ہاتھ دار ہو تواب جبکہ ہم نہایت اقلیت میں ہیں ہم سے انہیں کیا خون ہو سکتا ہے؟ نیز دعدہ کیا کہ ہم نئے لینے والے غیر مسلموں سے بھی ہمیشہ اپنی طاقت کے مطابق حسن سلوک کریں گئے۔کیونکہ وہ ہمارے مہمان ہیں۔پھر آپ نے حضرت امیر المومنین ¦