تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 438
لم سلالم نے فرمایا کہ یا یہ زمین جہا برین کے پاس رہنے ودیا اپنی نصف ان کو دیدو اور یہاں سے نصف لے لو۔صاف ظاہر ہے کہ یہ معاملہ بالکل جدا گانہ ہے۔یہ انفصالہ کے شک کو دور کر نے کے لئے تھا۔اور اس میں کیا شک ہے کہ حکومت کا مال غربا کے پاس جانا چاہیئے۔انصار نے جواب دیا کہ ہم دونوں باتوں پر راضی نہیں۔ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہیں کہ نئی آگرہ زمین مہاجرین کو ہی دی جائے۔اور ہماری زمین کا نصف بھی۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہ کیا۔مساوات رکھنے کا اسلامی نظام نوان متولی صانعت - دوره بر تو شیروانی کی حالت بھاؤ بڑھانے یا گھٹانے کو نا جان قرار دیا۔سادہ زندگی خویاک بہتی رہائش اور زیور میں تمام افراد کا کھانا کپڑا اور مکان حکومت کے ذمہ ہے۔حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ کسی قانون کے غلط استعمال پر اس قانون میں جن دی تبدیلی عارضی طور پر کردے۔چنانچہ حضرت عمران نے ایک وقت میں تین طلاق دینے والے کی تین طلاقوں کو تین ہی قرار دینے کا فیصلہ فرمایا۔حالانکہ اصل میں دوہ نین نہیں بلکہ ایک ہی ہیں۔آپ کی غرض شریعت کی حد بندیوں کو توڑنے والے کو سزا دینا تھی۔اسلامی احکام کی خصوصیت عورت کے حقوق۔اولاد کے حقوق عوام کے حقوق ملازموں کے حقوق - مجرموں کے حقوق - مسادات انسانی اور بین الاقوامی تعلقات پر روشنی ڈالی ہے۔دوسری شرائع اسبارہ میں خاموش ہیں۔ا سلام کے بعض اہم مسائل مین پر اعتراض کیا جاتا ہے :- ا۔زنا کی سزا رجم بہت سخت ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم میں اس سزا کا ذکر نہیں۔قرآن کریم الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي نَاجَلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ (نوری) زانی مرد یا ندانی عورت کو سو کوڑے لگاؤ اور جو جھوٹا الزام لگائے اُسے اسی کوڑے لگاؤ۔ان دونوں حکموں کے بعد فرما تا ہے۔إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابُ الِيم في الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُون رایا)۔پس یہ سو کوڑے بھی فحش کی سزا ہیں۔ظاہر ہے کہ جو اس طرح زنا کیسے گا کہ چانہ گواہ اسکی فعل کے مل سکیں گے وہ نہ نا سے زیادہ خش کا