تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 437
۴۲۳ اب رہ جاتا ہے وہ حصہ قانون کا جو حکومت سے تعلق رکھتا ہے اس میں اسلامی زانون کی روشنی میں ملکی قانون بنایا جا سکتا ہے۔بہر حال اسلامی ملک میں مسلمانوں ہی کی زیادتی ہو گی۔اس طرح کوئی بھی بھنگڑا پیدا نہیں ہوتا اور اسلام کا منشاء بھی پورے طور پنیر کی کمی کے پورا ہو جاتا ہے۔ورنہ دشمن کو استعمال ہو کر دوسرے مسلمانوں کو نقصان ہوتا ہے۔اور قرآن کریم فرماتا ہے۔وَلا تَسُبُوا الذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُوا اللهَ عَدْرًا بغَيْرِ عِلم ( العام ) اُوپر کی تمہید کے بعد میں کہ سکتا ہوں کہ اسلامی اصولوں کے مطابق بنائی ہوئی پارٹی کا نام سوشل ڈیموکرٹیک انٹر نیشیق ر کھا جا سکتا ہے۔اور اس کا وہ حصہ جو صرف مسلمانوں پر مشتمل ہو اسلامک سوشل ڈیموکرٹیک انٹر نیشنل کہلا سکتا ہے۔ر اسلامی نظام اقتصادی السلام کے اصول کے مطابق اصل مالک خدا تعالئے ہے اپنی سب چیزیں بنی نوع انسان کے لئے پیدا کی ہیں۔اس لئے ہراک کی کمائی میں دوسروں کا حق ہے وہ حق زکوۃ اور مشر در نشس کے ذریعہ ادا کیا جاتا ہے جو رقوم کہ حکومت لیتی اور غرباء پر استعمال کرتی ہے یا پبلک کاموں پر۔اس روپیہ کے استعمال میں یہ امر د نظر رکھا جاتا ہے کہ يُؤْخَذُ مِنْ أَمَرَاءِ هِمْ وَيُرَدُّ إلى نقد او هستم۔مگر اس کے ساتھ یہ امر بھی کہ امیر وغریب کے کھانے کپڑے کا انتظام حکومت کرتی ہے۔راشن سسٹم ہر وقت جاری رہتا ہے۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اس کا مؤید ہے۔بحرین کا بادشاہ مسلمان ہوا تو آپ نے اس کو سکھا کہ جن کے پاس زمین نہ ہو ا کو چار درہم اور مناسب کپڑا بطور گذارہ دیا جائے۔حضرت عمر نے اسلامی احکام اور اس عمل کے مطابق ہر سلمان کی نوراک دلباس کا انتظام کیا اور مفت راشن کا سسٹم بھاری کیا۔مگر اس کے علاوہ احسان اور صدقہ کو بھی اسلام نہیں مٹاتا۔اور انفرادی ترقی کے راستے کھلے پھوڑتا ہے زمین کی ملکیت کے بارہ میں اسلام نے ہر گزردک نہیں ڈالی۔جو والے پیش کئے جاتے ہیں وہ سرکاری زمین یا عطیات سر کا ریا غصب حکام کے بارہ میں ہیں۔ایک حوالہ بھی خرید کردہ یا در شر کی زمین کے متعلق نہیں ہے۔انصار صحابہ نے خود نصف زمین دینی چاہی مگر مہاجرین نے نہیں کی۔فتوحات کے موقعہ پر رسول کریم صلی الہ علیہ و ستم