تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 436 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 436

پس اسلامی آئین بنانے جس کی منے میں اسلامی سوسائی بنانے سے پہلے اسلامی فرد بنانا ہوگا۔ور نہ یہ تو ظا ہر ہے کہ جو اسلامی فرد نہ ہوگا اسے آئین اسلام سے کیا دیپی ؟۔جو ذاتی احکام پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں وہ کیوں قومی آئین کے لئے فکرمند ہوگا اگروہ ایسا کہ ے گا تو کسی ذاتی غرض کے لئے۔۔اس لئے وہ آئین اسلام نہ بنائے گا بلکہ آئین اسلام کے نام سے ایسا قانون بنائیگا جو اس کی ذات کے لئے مفید ہو۔ایسا آئین یقیناً غیر اسلامی آئین سے بھی خطرناک ہوگا کیونکہ وہ سوسائٹی کے لئے بھی مضر ہو گا اور اسلام کو بھی بگاڑ نے اور بد نام کرنے والا ہوگا۔پس جب تک فرد اپنے ذاتی اعمال کو اسلام کے مطابق کرنے کے لئے تیار نہیں اسے کوئی حتی نہیں کہ اسلامی آئین بنانے کا مطالعہ کہ سے یاد ھوائی کرے۔ہرمسلمان کا فرض ہے کہ وہ دیکھے کہ اسلام کا آئین بنانے والے فردیتانیان اسلام پر خود کار بند ہیں۔اب میں تفصیل کو لیتا ہوں۔اسی بھی آئین کے جاری کرنے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہئے کہ شود حرام کرنا ہوگا۔موجودہ سینما بند کرنے ہوں گے۔اسلامی پردہ رائج کرنا ہوگا۔شراب پینے والی بند کرنی ہوگی۔انشورنس حرام ہو گا۔جو اس صرفت بازداری نہیں بلکہ اسکی مشابہ کھیلیں بھی جو چانسی گیمز کہلاتی ہیں منع ہوں گی۔ڈاڑھیاں دیکھی جائیں گی۔مردوں کے لئے سونے کا زیور یا استعمال کی چیز ، چاندی ہونے کے برتن بلکہ تالیاں بجانا بھی منع کرنا ہو گا۔جاندار کی مصوری اور ان تصویروں کی نمائش بھی نا جائمہ ہوگی اگر سلمان اس کے لئے تیار ہوں تو پھر وہ شوق سے اسلامی آئین بھاری کریں۔لیکن اس کے لئے اس اعلان کی ضرورت نہیں۔کہ وہ اسلامی حکومت جاری کریں گے کیونکہ قرآن کریم تو صاف کہتا ہے کہ رمن لم يَحْكُمْ بِمَا نَزَلَ اللهُ نَارِ لَيْكَ هُمُ الْكَافرون (مائدہ ہے ، کیا سلمان دوسری اقوام کو مجرم بنانا چاہتے ہیں۔اور خدا تعالیٰ کی اجازت کو چھین لیں گے اور قرآن حکم پرعمل ہوگا کہ ہر مذہب کے پیرو اپنے مذہب کے قانون کے مطابق عمل کریں گے تو پھر اس فتنہ کا دروازہ کھولنے کی کیا ضرورت ہے کہ دوسرے مسلمانوں کو نقصان پہنچے۔یہ کیوں نہ کہا جائے کہ پاکستان میں مسلمانوں کے باہمی معاملات اسلام کے مطابق طے ہوں گئے اور دوسر سے مذا ہب اگر جائیں تو ان کے معاملات ان کے مذہب کے مطابق در نہ ان کی کثرت رائے کے مطابق قانون بنا دیا جائے گا۔ان الفاظ میں وہی مطلب حاصل ہو گا جو اسلامی حکومت کے لفظوں میں ہے۔لیکن کسی کو اعترض کرنے یا بدلہ لینے کاحق نہیں ہو گا۔غیر مذاہب میں سے جو اعلان کر دیں کہ وہ اسلامی قانون یا اُس کے فلاں حصہ کی پیروی کریں گئے ان پر اسلامی قانون عاید کر دیا جائے گا۔