تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 435 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 435

پر کم ہی تزکیہ ذہن و قلب اور قومی ترقی کے مد نظر ہونے چاہئیں۔م - لَا يَخَلَّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ( البقر ) کوئی حکم ایسانہیں ہونا چاہیے جو فرد یا قوم کی طاقت سے باہ ہو۔یہ طاقت جسمانی بھی ہوسکتی ہے امکانی بھی۔یعنی ظاہر میں طاقت ہو لیکن اسکانی ترقی کو نقصان پہنچاد سے اور ذہنی بھی یعنی قوم کی ذہنی قوتوں کو ضائع کر دیے۔نانون محرمیت ضمیر کو مارنے والا نہ ہو۔وَلْيَحْكُمْ أَهْلُ الْإِنجِيلِ بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ فِيهِ (مائده بی) اور یہود کی نسبت ہے وَكَيْفَ يُحَكِّمُونَكَ وَعِندَهُمُ التَّوْرَاةِ فِيْهَا حُكُمُ اللَّهِ ثُمَّ يَتَوَلَّوْن مِنْ بعد ذالك (مائده با مسلمانوں کے متعلق فرمایا۔فاحْكُمُ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنزَلَ اللهُ (مائده : - کوئی حکم فرد یا پارٹی کو نقصان پہنچانے واں نہ ہو۔وَإِن كَثِير مِنَ الْخُلَفَاءِ لَيَبْغِي بَعْضُهُمْ عَلَى کوئی حکم یا نفاذ حکم ایسا نہ ہو کہ مزدوروں کو ترقی سے رو کے یا ترقی کے امکانات کو خاص افراد یا اقوام میں محصور کردے۔ما أفاء الله عَلَى رَسُولِهِ مِنْ اَهْلِ القُرى فللهِ وَالرَّسُولِ وَيذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسْكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَى لَا يَكُونَ دُولَة بَيْنَ الْأَغْنِيَا مِنْكُمْ (الحشرية ) - - کوئی قانون ایسا نہ ہو کہ ایک قوم بالحکومت کے ذریعہ سے دوسری اقوام پرنا جائزہ فوقیت حاصل کر نا چا ہے یا سے دبانا چا ہے۔تَخذُونَ ايْمَانَكُمْ دَخَلَا بَيْنَكُمْ أَنْ تَعُوْنَ أُمَّةٌ هِيَ أَرْبَي مِنْ أُمَّةٍ دَ إِنَّمَا يَبْلُوَكُمُ اللهُ بِهِ وَلَيُبَيِّنَ لَكُمْ يَوْمَ القِيَامَةِ مَا كُنتُم فِيهِ تَختَلِفُونَ (النمل ہے ، اسکی کا تخت زمیندار اور غیر زمیندارہ میں فرق جائزہ نہیں۔را سلام قانون کو فردی پاکیزگی کے ساتھ البتہ قرار دیتا ہے۔کیونکہ سوسائٹی کی اصلاح فرد کی اصلاح کے ساتھ والبتہ ہے اور اچھے سے اچھا قانون فرد کے طوعی تعاون کے بغیر اچھا نتیجہ نہیں دے سکتا۔اسی لئے اسلام فرماتا ہے يا أيها الذينَ آمَنُوا عَلَيْكُما أَنفُسَكُمْ لا يَرُكُمْ مَنَ ضَلَّ اَذَا اهْتَدَيْتُمُ (باندہ ہے، اس لئے أَيُّهَا کوئی اسلامی آئین جاری نہیں ہو سکتا۔جب تک کہ فروزاتی احکام پر پہلے عمل نہ کرے۔اگر قانون کو کا میاب کرنے والی روح نہ ہو تو قانون کیا کہ سکتا ہے ؟ ہر قانون توڑا جا سکتا ہے۔ہر قانون کے مستثنیات ہیں اور ہر شخص اپنے آپ کو مستنے بنا سکتا ہے۔یہ سچ ہے کہ میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا تانی لیکن یہ بھی پیسے ہے کہ وہ راضی نہ ہوں تو بھی دو قاضی غریب کو اتو بنانے کے لئے سو جتن کر لیتے ہیں۔