تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 434
۴۳۰ مسلمانوں میں سود کے متعلق اسلامی احکام جاری کرنے کا احساس پیدا ہوا ہم یقینا سود کو مٹا دیں گے۔ہم اسے مٹا سکتے ہیں اور اسلامی قانون کی برتری ثابت کر سکتے ہیں۔حقیقت یہی ہے کہ اس زمانہ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ قرآن کریم کی یہ آیت کہ رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُ وا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِيْن ( مجری ، یعنی کفارہ کے دل میں کئی بار خواہش پیدا ہوتی ہے کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوتے اور اسلامی قانون کی برتری سے فائدہ اُٹھاتے۔یہ آیت اپنے اندر بڑی بھاری صداقت رکھتی ہے۔ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اسلام ہر معاملہ میں دخل دیگر عقل انسانی کو معطل کر دیا ہے۔یہ اعتراضی اسلام پر ہرگز نہیں پڑتا۔اسلام تو کہتا ہے۔يَا أَيُّهَا الذین امنوا لا تَسَئَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدُ لَكُمْ تسوكو (مائدہ پے، یعنی ہر معامہ کے متعلق سوال نہ کیا کرو کیونکہ قرآن کریم میں ہر امر کا بیان ہو جانا تمہار سے لئے تکلیف کا موجب ہو گا۔پس اسلام کا کمال صرف یہی نہیں کہ وہ ہرمسئلہ پر روشنی ڈالتا ہے۔بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ ایک عمادی تعلیم کے باوجود بہت سی جزئیات کو مسلمانوں کے لئے تھوڑ دیتا ہے۔تاکہ وہ اُن کے لئے قانون بنائیں۔} اسلام کی تقسیم اس بحالی سے مندرجہ ذیل حصوں میں تقسیم ہے یہ اقول۔اصولی تعلیم۔یہ غیر متبدل ہے اصولی طور پر متبدل ہے حالات مخصوصہ میں نماز میں بہار کا بیٹھ جانا یانمانہ لیٹ کر پڑھنا۔وضنونہ کرنے کی صورت میں تیم کر لینا۔رمضان کے مہینہ میں فر یا بیماری کی وجہ سے دوسرے دنوں میں روزہ رکھو لینا مہ یہ سب حالات مخصوصہ کی تبدیلیاں ہیں۔اس طرح جن ملکوں میں چوبیس گھنٹے سے دن یا رات بڑے ہوتے ہیں۔ان میں روزہ زکواۃ اور حج کے فرائض کو دوسرے ممالک کے دنوں اور مہینوں پر قیاس کر کے پورا کرنا۔یہ سب غیر متبدل اصولی حکم کی تبدیلیاں ہیں جو حالات مخصوصہ میں ہو جاتی ہیں۔دوسرے جزوی تعلیم۔یہ کئی قسم کی ہے۔الف غیر معین احکام ہیں جن کی کمیت با کیفیت افراد یا جماعتوں پر چھوڑ دی گئی ہے۔جیسے نفل نماز نفلی صدقہ نفلی روزہ عمرہ۔ب - مماثل حالات میں مسائل اخذ کرنے کا حق دیا ہے۔اسطرح قانون سازوں کے لئے مواقع نکلتے ہیں۔جم - جرائم بتائے ہیں میرا تجو یہ نہیں کی۔اس طرح بھی قانون سازی کے لئے مواقع نکالے ہیں۔اسلامی قانون کے اصول یہ ہیں - يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ - (البقره )۔پہ حکم کسی فائدہ کے لئے ہوتا چاہیئے۔ہر نبی کسی نقصان کے دور کرنے کے لئے ہونی چاہیئے۔