تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 433
۴۲۹ کرنا پڑتا ہے۔سویٹر بوجھ لچکدار ہونے کے بہت دیر تک کام آتا رہتا ہے۔ایسا لچکدار قانون گو دیر تک کام دیتا ہے لیکن اس میں یہ نقص ہوتا ہے کہ وہ کبھی اپنے منبع سے بالکل دور چلا جاتا ہے۔اور نئی نئی تو مہروں سے آخر اس کی شکل ہی بدل بھاتی ہے۔اسلام بعض حصوں میں انتہائی غیر لچکدار ہے مگر اس کی بعض تعلیمات انتہائی لچکدار ہیں اور یہ اس کا غیر معمولی امتیاز اور غیر معمولی کماں ہے کہ اس کا غیر لچکدار قانون کبھی بھی خلاف زمانہ نہیں ہوتا اور اس کا لچکدار قانون کبھی بھی ایسی شکل نہیں بدست کہ اپنے منبع سے بالکل کٹ جائے۔اس لئے اسلام ہمیشہ کے لئے قائم رہنے والا قانون ہے۔اب میں اصل سوال کو لیتا ہوں کہ آخر ایسا کس طرح ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بعض باتوں کا جواب کیوں اور کسی طرح سے مل نہیں ہوتا بلکہ چیز کی حقیقت کو دکھی کم ہوتا ہے اسلام کاک کی کمی بھی ایسا نہیں جو زمانہ کی روی توں سے پیچھے رہ گیا ہو خصوصا اس زمانہ کے لحاظ سے تو اسلام کے احکام کی خوبی در بارہ ثابت ہوگئی ہے۔طلاق ، نکاح بیوان قریبی رشتہ داروں سے شادی۔شراب کے استعمال کو رام کرنا یہ چیزیں ہیں جن پر پچھلے سو سال میں شدت سے اعترافی ہوتا آیا ہے۔لیکن اب وہی معترضی تو یں اور حکومتیں ان قانونوں کو اپنا رہی ہیں۔کثرت ازدواج پر اعتراض ہوتا ہے مگر کیا اس تازہ مصیب کے بعد بھی مسلمانوں کی مجھ میں اس کی حمت نہیں آئی۔جب ہندوستان میں اسلام کی تبلیغی توتی رکی تھی اس وقت کے مسلمان اگر کثرت ازدواج کے ذریعہ سے اسلامی نسل کو بڑھانا شروع کردیتے تو آج یہ تنہا ہی نہ آتی تمام قانونوں در تمام اعمال کا خاص خاص زمانہ ہوتا ہے اُسی وقت ان کی قدر جاکر معلوم ہوتی ہے۔عقائد میں توحید کا مسئلہ لے لو ، توحید پر دنیا نے کتنے اعتراض کئے ہالیکن اس صدی میں کیا کوئی ملک اور کوئی قوم بھی باقی رہ گئی ہے جو توحیدکی قائل نہ ہو ؟ ان تمام باتوں کو دیکھتے ہوئے کوئی مسلمان شعبہ ہی کسی طرح کر سکتا ہے کہ اسلام کے بعض قانون پرانے ہو گئے ہیں۔آج سے سو سال پہلے طلاق کا قانون بھی پرانا تھا۔شراب کا قانون بھی کیا نا تھا۔جوئے کا قانون بھی پیرانا تھا۔نکاح بیوگان کا قانون بھی میرا نا تھا قریبی رشتہ داروں میں شادی بھی پرانی تھی۔اولاد میں جائیدادی تقسیم بھی پرانی تھی لیکن اب جان پہچان کر ان باتوں کو دنیا مان رہی ہے۔کیا یہ بات ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی نہیں کہ جو در چار قابل اعتراض احکام رہ گئے ہیں وہ بھی اسی طرح حل ہو جائیں کے جس طرح کہ پہلے عمل ہوئے۔جہاں اسلام کے کئی قانون ایسے ہیں کہ جن پر پہلے اعتراض ہوا اور ب و بیان پر عمل کرنے لگی ہے۔وہاں غیر مذاہب کا کوئی بھی حکم نہیں کے متعلق یہ کہا جاسکے کہ اسلام کو اسے پہنانے کی ضرورت پیش آئی ہے۔پردہ کی مثال یہاں چسپاں نہیں ہوتی اور سود کا سوال مختلف ہے کیونکہ سود لینے پر سلمان بنکوں اور حکومتوں کے قانونی دباؤ کی وجہ سے مجبور ہوتے ہیں لیکن جن غیر لم اقوام نے طلاق وغیرہ کے مسائل اختیار کئے ہیں وہ کسی اسلامی دباؤ کی وجہ سے نہیں۔ہم خدا تعالی کے فضل سے ان سوالات کو بھی بل کو سکتے ہیں۔جب بھی