تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 429
۴۲۵ روس ایک سوچی بھی سکیم کے ماتحت آہستہ آہستہ ہندوستان پر حملہ کرنے کے لئے میدان تیار کر رہا ہے۔روس کے خواہ کی وجہ سے ہی انگریزوں نے ہندوستان کو آنرا د کیا ہے۔اس لئے ہمیں روس کی طرف سے ہو شیار رہنا چاہیئے۔حضور نے دیگر ممالک کے ساتھ پاکستان کے سیاسی تعلقات کے سلسلے میں تیرہ اہم تجاویز پیش کرتے ہوئے منور جہ ذیل امور پر خاص طور پر زور دیا۔(1) پاکستان کو اپنی طرف سے کوئی ایسی بات نہ کر نی چاہیئے جسکی اسکی ہندوستان سے تعلقات خراب ہوں۔اسے اپنی طرف سے صلح کی ہر نمکن کوشش کر نی چاہیئے۔لیکن یہ صلح با عزت ہو نہ کہ ہتھیار ڈالنے کے مترادف۔(۳) برطانیہ اور امریکہ سے بھی خوشگوار تعلقات رکھنے کی کوشش کرنی چاہیئے لیکن ان کی چالوں سے ہوشیار رہنا چاہیئے۔روس کے متعلق بھی امن پسندانہ رویہ رکھنا چاہیئے اور اپنی طرف سے کوئی وجہ اشتعال پیدا نہ ہونے دینی چاہیئے۔عرب ممالک سے زیادہ سے زیادہ دوستانہ تعلقات قائم کرنے چاہئیں۔(۳) (b) عراق اور شام کے ساتھ نیل کے ذریعے پاکستان کا اتصال قائم کرنا ضروری ہے۔تاکہ مزورت پر ان ممالک کے ذریعے سامان آسکے۔(4) برما اور سیلون کے مخصوص ملکی حالات اس قسم کے ہیں کہ ان کے ساتھ بہت آسانی سے گہرے سیاسی تعلقات قائم (4) کئے جا سکتے ہیں اور یہ تعلقات مشرقی پاکستان کی مدد کے لئے با لخصوص بہت اہمیت رکھتے ہیں۔سپین، ارجنٹائن ، بھاپان ، آسٹریلیا ، ابی سیدنیا اور الیٹ افریقہ سے بھی دوستانہ تعلقات استوار کرنیکی کوشش کر نی چاہیئے۔یہ مالک اپنے اپنے مخصوص حالات کی وجہ سے مسلمانوں کے لئے بہت سے سیاسی فوائد کا موجب بن سکتے ہیں " اے پھٹا پیچ اس آخری لیکچر کا خلاصہ خود سید نا الصلح الموعود کے الفاظ میں درج ذیل کیا جا تا ہے۔محمد الحلى على الله الكريم خدا کے فضل اور گھر کے ساتھ هو الل سامير دستور اسلامی یا اسلامی آئین اساسی نیہ سوال اس وقت بندر اٹھ رہا ہے کہ پاکستان کا دستور اسلامی ہو یا قومی؟ اس بحث میں حصہ لینے والوں کی باتوں سے معلوم الفضل صلح / جنوری ۳۲ به بیش صاله