تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 430
ہوتا ہے کہ وہ آئین عام الہ آئیکن اساسی میں فرق نہیں سمجھتے۔آئین اساسی سے مراد وہ قانون ہوتے ہیں جن کی حد بندیوں کے اندر حکومت دوست ہیں اپنا کام چلانے کی مجاز ہوتی ہے۔اور جن کو وہ خود بھی نہیں توڑ سکتی۔بعض حکومتوں میں یہ آئین میں او ر کھے ہوئے ہوتے ہیں اور بعض میں صرف سابق دستور کے مطابق کام چلایا جاتا ہے۔اور کوئی لکھا ہوا دستور موجود نہیں ہوتا۔یونائٹیڈ سٹیٹس امریکہ مثال ہے ان حکومتوں کی بھن کا دستور رکھا ہوا ہوتا ہے۔اور انگلستان مثال ہے۔ان حکومتوں کی بہن کا دستور رکھا ہو انہیں اس کی بنیا د تعامل سابق پر ہے۔اسلام نام ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان پر نازل ہونے والی وہی پر ایمان لانے کا۔پس اسلامی آئین اساسی کے معنے ہی ہوں گے کہ کوئی ایسی بات نہ کی جائے جو قرآن کریم سنت اور رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کیتعلیم کے خلاف خو به قرآن کریم ایک غیر مشتبہ کتاب ہے۔سنگت ایک غیر مشتبہ دستور العمل ہے۔قول رسول بلحاظ سند کے ایک اختلافی حیثیت رکھتا ہے بعض اقوال رسول متفقہ ہیں بعض مختلفہ جو مفقہ ہیں وہ بھی کام الشده در سنت رسول اللہ کا درجہ رکھتے ہیں۔جن اقوال رسول کے متعلق مختلف فرق اسلام میں اختلاف ہے۔یا ایک ہی فرقہ کے مختلف علماء میں اختلاف ہے ان کا بول کرنا یا نہ کرنا اجتہاد کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔اس لیے وہ آئین اساسی نہیں کہاں سکتے۔اسی طرح قرآن کریم کی آیات میں سے وہ حصہ احکام کا جن کے معنوں میں اختلاف پیدا ہو جاتا ہے وہ آرتیں تو آئین اساسی میں داخل کبھی جائیں گی۔کیونکر وہ غیر مشتبہ ہیں لیکن اس کے الف یاب معنے آئیکن اساسی کا حصہ نہیں سمجھے جائیں گے بلکہ الف کو اختیار کر لینا یاب کو اختیار کر لیا حکومت وقت کے اختیارہیں ہوگا۔یہیں جہاں تک آئین اساسی کا سوال ہے اگر پاکستان اسلامی آئین نامی کو اختیار کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنے آئین میں یہ دفعہ رکھنی ہوگی کہ پاکستان کے قوانین جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے قرآن و سنت پر بنی ہوں گے۔اور جن امور میں قرآن و سنت سے واضح دوستی نہ سنی ہوگی اور اجتہاد کی اجازت ہوگی یہاں قرآن کریم سنت اور کلام رسولی کی روشنی میں قانون تجویز کئے جائیں گے اگر قانون اساسی اسلامی نہیں بلکہ حنفی یا شافعی یا جنبی یا ماکی بنانا ہوگا تو پھر اوپر کے قانون میں یہ بھی اضافہ کرنا ہوگا کہ یہ قانون ندای فلای فرقہ کے علماء کے اجتہادوں پر سنی ہوں گے مگر اس خصوصیت کی وجہ سے یہ قانون اسلامی آئین نہیں بلکہ حنفی آئین یا شافعی آمینی یا جنیلی آئین یا مالک آئین کہلانے کے مستحق ہوں گے کیونکہ اسلام کے لفظ میں تو سب ہی فرق اسلام شامل ہیں۔اسلامی اصول پر مبنی گورنمنٹ کے لئے چونکہ انتخاب کی شرط ہے اس لئے اگر اسلامی آئین پرگورنمنٹ کی بنیاد رکھی جائیگی تو مندرجہ ذیل شرائط کو مد نظر رکھنا ہو گا۔اقول : حکومت کا ہیڈ منتخب کیا جائیگا۔انتخاب کا زمانہ مقرر کیا جاسکتا ہے۔کیونکہ پاکستان کا ہیڈ خلیفہ نہیں