تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 428
۴۲۴ (سرنگ پچھانے والے) HINE SWEEPERS (سرنگیں صاف کرنے والے) ، DESTROYERS (تباہ کی جہاز، AIRCRAFT CARRIERS (ہائی بہانہ بردار جہاز )۔حاصل کرنے کے لئے فوری طور پر قدم اٹھانا چاہیے۔زیادہ سے زیادہ کر در دو کروڑ روپیہ ان چیزوں پر خرچ کر کے ہم فوری طور پر کراچی کی بندرگاہ کو محفوظ کر سکتے ہیں۔اس سلسے میں تجارتی پیڑہ قائم کرنا بھی بہت ضروری ہے۔کیونکہ اس وقت تمام بحری تجارتی کمپنیاں غیر سموں کے ہاتھ میں ہیں۔اس کی وجہ سے تم جو سامان بھی باہر سے نگر اتے ہیں وہ پہلے بھی جاتا ہے اور انڈین یونین مختلف ذرائع سے سامان پر یقہ کر لیتی ہے۔حضور نے یہ تحریک بھی کی کہ سلمان نوجوانوں کو بھری ملازمتیں کرنے اور سمندری سفر کرنے کا اپنے دلوں میں خاص شوق پیدا کرنا چاہیئے۔پاکستان کی یونیورسٹیوں کو بحری ٹرینگ کے لئے کلیں قائم کرنی چاہئیں کیونکہ در حقیقت بغیر سمندری طاقت کے صحیح معنوں میں آزاد کال ہی نہیں سکتی مسلمانوں نے ہی سب سے پہلے دنیا میں کھلے سمندر میں سفر کر تا شروع کیا تھا۔لیکن افسوس کہ اب رہے زیادہ اس سلسلے میں غفلت بھی سلمانوں پر ہی طاری ہے۔سیاست کے لحاظ سے پاکستان کے دفاع پر روشنی ڈالتے ہوئے حضور نے بتایا۔ملکوں کے سیاسی تعلقات دو قسم کے ہوتے ہیں۔(1) جبری۔یہ تعلقات بالعموم ہمسایہ مالک سے ہوتے ہیں۔(۲) اختیاری۔پاکستان کے جہری تعلقات را اچھے یا بیر سے ، ہندوستان ، افغانستان ، ایران ، برما کا عرب اللہ بر طانیہ کے ساتھ وابستہ ہیں۔ان میں سے ایران ، عرب اور بجھا سے پاکستان کے تعلقات اچھے ہیں۔افغانستان میں گوا ایک عنصر ایسا وجود ہے جس کی پاکستان کے بعض علاقوں پر نظر ہے۔لیکن وہاں کی رائے عاصمہ چونکہ ہمسایہ سلمان مالک سے ہمدردی اور تعلقات بڑھانے کے حق میں ہے اسلیے یہ عنصر سردست پاکستان کی مخالفت کرنے کی جرات نہیں کر سکتا۔البتہ انڈین یونین سے ضر در خطرہ ہے کیونکہ ایک تو اسے لفظ پاکستان پر ہی غصہ ہے دوسرے مغربی پاکستان سے غیر مسلم قریب نکل چکے ہیں۔لیکن ہندوستان میں ابھی چار کر د سلمان با تی ہیں۔جنہیں انڈین یونین بطور یہ عمال استعمال کر سکتی ہے۔اس لئے بھی وہ آسانی سے پاکستان پر حملہ کرنے پر آمادہ ہو سکتی ہے۔اس کے علاوہ اہم بات یہ ہے کہ پاکستان میں انڈین یونین کا فضحتہ کالم موجود ہے۔لیکن انڈین یونین میں پاکستان کا فتہ کالم موجود نہیں۔اس موقعہ پر بھور نے بتایا۔کانگرس نے پنجاب میں بھی اور سرحد میں بھی بعض لوگوں کے ساتھ ساز باز کرتی ہے۔یہ لوگ ایک تنظیم اور سکیم کے ماغنت آہستہ آہستہ پاکستان کو ضعف پہنچانے کی کوشیشی شروع کر چکے ہیں۔پاکستان کے عوام کو اور حکومت کو ان لوگوں سے خبر دالہ یہ کہنا چاہیئے۔حضور نے دیگر و اینک کے ساتھ تعلقات کے سلسلے میں روس سے حملہ کے خطرہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے بتایا۔