تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 405 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 405

۳۰۴ تعلیم الاسلام ہائی سکول م ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا سکول کے بتا یا اخت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔چنانچہ لکھا ہے کہ :۔و تعلیم الاسلام ہائی سکول کاشان اور اکتوبر کوں ہورپہنچا اور رنویر کار کی حضرت ابرالمونین ایر لالہ کے ارشاد کے ہو جب چنیوٹ میں منتقل ہوا۔چنیوٹ میں نہیں ملک بھگوان داس کی بلڈنگ لاٹ ہوئی۔جہاں ہمارے آنے سے پہلے ہند و پناہ گزین ٹھہرے ہوئے تھے۔انہوں نے جاتے وقت سکول کی تمام کھڑکیاں ، دردانہ سے الماریاں اور دیگر سامان جبل ڈالا تھا۔حتی کہ روشندان تک جل گئے تھے۔اور بیرونی چار دیواری بھی محفوظ نہ تھی۔چنیوٹ پہنچ کر مکرم سید محمد اللہ شاہ صاحب ہیڈ ما سٹرائی سکول نے فوری طور پر تمام انتظام سنبھالا۔مختلف اسانده که ضروریات زندگی کی بہم سانی پر مقر کیا گیا۔بعض کوراش فراہم کرنے کے لئے اور بعض کو حصول مکانات پر مقر فرمایا راسی دوران میں سردیوں کیلئے لحاف در میان در دیگر پار چات حاصل کئے گئے اور پھر پڑھائی شروع ہوئی۔پہلے دن سکول میں صرف ہم طلبہ حاضر تھے۔بہی کے لئےنہ مکان کا انتظام تھا اور نہ ہی اس قیام کا مگر رفتہ رفتہ اللہ تعالے نے توفیق عطا فرمائی۔اور ہمیں پانچ مکان رہائش کے لئے مل گئے۔اسکے علاوہ ایک بلڈنگ بطور بور ڈنگ بھی استعمال میں لائی گئی۔ہیڈماسٹر صاحہ کے احسن انتظام کے مطابق طلباء سکول اور بورڈنگ میں ہر روز وقار عمل مناتے اور فرش و دیواروں وغیرہ کی مکمل صفائی کرتے۔آہستہ آہستہ طلباء کی تعداد مں اضافہ ہونا شروع ہوا۔چنانچہ ایک ماہ کے بعد جب انسپکٹر صاحب محکم تعلیم کی طرف سے سکول کا معائنہ ہیں۔تولیہ کی قرارداد تھی اور اس کے علاوہ علی کی منت اور پڑھائی بھی اسی ذوق شوق کے ساتھ بھاری تھی۔انسپکڑھا جتنے معائنہ پر اطمینان کا اظہار کیا۔جناب ڈپٹی کمشنر صاحب جھنگ نے ہمیں سکول کے لئے اینٹیں اور عمارتی لکڑی عطا فرمائی جس سے طلباء کے لئے عارضی طور پر پنے بوائے گئے۔اور کچھ کرسیاں اور میری بھی بنوائی گئیں اسکے علاوہ حکیم تیلی کی طرف سے مبلغ در پیہ بطور امدادی گرانٹ بھی عطا ہوا۔آخر اپریل میں طلبہ کی تعداد ۲۵ ہوگئی اور بورڈران کی تعداد بھی۔۔اسکے لگ بھگ ہوگئی الفضل میں اور خلط کے ذریعے سے والدین کو توجہ دلائی گئی کردہ اپنے لڑکوں کوتعلیم الاسلام ہائی سکول میں تعلیم کے لئے بھیجیں۔اس کا فضل خدا خاطر خواہ نتیجہ ہوا۔چنانچہ آج الہ تعالی کے فضل سے تعداد طلباء ۳۰ سے زائد ہو چکی ہے اور روز پر نہ بڑھ رہی ہے پچون کے طلباء کی تعداد شروع میں نسبتا کم تھی۔اور بھی میں بھی کئی مدات میں تخفیف کی گئی تھی۔اسلئے تعلیم الاسلام ہائی سکول کے نصف سے زیادہ سٹاف کو تخفیف میں لایا گیا۔گو ان اساتذہ کی خدمات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ہم نے یہ وعدہ بھی کیا کہ انہیں انشاء اللہ تعالی عند الضرورت واپس بلالیا جائیگا۔اب ان میں سے بعض اساتذہ کو واپس بلا یا جا رخ