تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 401 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 401

۳۰۰ او 14 مارچ کانہ کے ایشوع میں لکھا:۔۱۹ ہو لوگ احمدیوں کے مذہبی کیریکٹر اور ان کے بلند شعار سے واقف ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ اگر دنیا کے تمام احمدی ہلاک ہو جائیں، ان کی تمام جائیداد لوٹ لی جائے۔صرف ایک احمدی زندہ بچ جائے۔اور اُس احمدی سے یہ کہا جائے کہ اگر تم بھی اپنا مذہبی شعار تبدیل نہ کرو گے تو تمہارا بھی یہی حشر ہوگا۔تویقینا دنیا میں زندہ رہنے والا یہ واحد احمدی بھی اپنے شعار کو نہیں چھوڑ سکتا۔مرزا اور تباہ ہونا قبول کر لے گا یہ ہے ریاست ۳ دی انٹر میں یہ ریمارکس دیئے :- د یہ واقعہ انتہائی دلچسپ ہے۔کہ جب مشرقی پنجاب میں وزیزی کا باندار گرم تھا مسلمانوں کا مسلمان ہونا ہی ناقابل لافی جرم تھا۔مشرقی پنجاب کے کسی ضلع کے کسی مقام پر بھی کوئی سلمان باقی نہ رہا اور اور پاکستان چلے گئے۔اور یا قتل کر دیئے گئے۔تو قادیان میں چند درویش صفت احمدی تھے جنہوں نے اپنے مقدس مذہبی مقامات کو چھوڑنے سے انکار کر دیا۔اور انہوں نے تنگ شرافت لوگوں کے ننگ انسانیت مظالم برداشت کئے۔اور جینکو بلا خوف نژدید مرد مجاہد قرار دیا جاسکتا ہے۔اور جن پر آئندہ کی تاریخ فخر کریگی۔کیونکہ امن اور آرام کے زمانہ میں تو ساتھ دینے والی تمام دنیا ہوا کرتی تھی۔ان لوگوں کو انسان نہیں فرشتہ قرار دیا جانا چاہیئے۔جو اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھکہ اپنے شعار پر قائم رہیں۔اور موت کی پرواہ نہ کریں۔اب بھی۔۔۔۔۔قادیان کے درویشوں کے اسوہ حسنہ کا خیال آتا ہے تو عزت و احترام کے جذبات کے ساتھ گردن جھک جاتی ہے۔اور ہمارا ایمان ہے کہ یہ دلیسی شخصیتی ہیں جن کو آسمان سے نازل ہونے والے فرشتے قرار دینا چاہیئے۔" ۹ - شہری بلدیو ستر صاحب ایڈیٹر راہی دہلی کے تاثرات یہ ہیں :۔سے • دنیا جہان میں کچھ شخصیتیں ایسی اترتی ہیں جو ہمیشہ ہمیش کیئے اپنے نقش عوام کی راہنمائی کے لئے ھور ھاتی ہیں۔چنانچہ قادیان بھی ایسی ہی ایک شخصیت کا نقش ہے جس سے لوگ ایسا دری حاصل کر سکتے ہیں جو انہیں اس حقیقی منزل کی طرف لے جا سکے۔جہانی محبت ، اخوت اور رواداری ہے۔کاش میرے ملک کے لوگ اس منارہ سے جو آسمان کی بلندیوں تک پہنچ کر ان کو بچی روشنی عطا کر ت ہے وہ روشنی حاصل کرتے جس سے ان کے دل کی کو در تیں مٹ جاتیں اور وہ باہم مل جل کر زندگی بسر کہ نا سیکھتے۔خیر! میرا یقین ہے کہ قادیان میں تعمیر شدہ منارہ صلح آشتی کا پیغام دیتا رہے گا۔میری یہاں آم بالکل اتفاقیہ ہے۔کانی برسوں سے اس مقام کی زیارت کا شوق رہا۔ه : بحواله الفرقان در دیشان قادیان نمبر ۱۳۷۱۳۲۰ ܀