تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 400 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 400

ہیں۔دیکھ بھال اور نگرانی کرتی ہے۔موعود نبی کی ایک پیشگوئی کے مطابق احمدیہ جماعت اس بات پر پورا یقین رکھتی ہے کہ قادیان دوبارہ جات کا ایک زندہ ، فعال اور معمور مرکز بن جائے گا " لے - روز نامه انبیت " جالندھر (مورخہ ۲۱ رسٹی سے انہ) نے لکھا :- - ہمیں خوشی ہے۔کہ اس وقت جماعت احمدیہ قادیان کے معزز افراد ان تعلقات محبت کو مضبوط کرنے کے لئے پے در پے سکھ بھائیوں کے ساتھ ہمدردی اور تعاون کا سلوک کر رہے ہیں۔اس سے پہلے بھی انہوں نے کئی دفعہ اپنے معادن ار محبت کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ان کے اچھے سلک سے ہم ان تلخ باتوں کو تقسیم ملک کے وقت ہمارے سامنے آئیں بھولتے جاتے ہیں۔" کچھ عرصہ پیشتر پسند شرارت پسند لوگوں نے ہمیں احمدیہ جماعت کی طرف سے بدظن کرنے کی کوشش کی تھی۔اور ہم حقیقتا ای دادار اور صلح کل جماعت سے بدظن رہے۔لیکن اب اس تماعت کو قریب سے دیکھنے سے اس پریم بڑھانے سے معلوم ہوا۔کہ اس جماعت کے لوگ بہت ہی با اخلاق اور دوا ادارہ ہیں اور بہت بلند خیالات کے مالک ہیں۔امید ہے کہ ایسے لوگوں سے ہی دوبارہ محبت اور سلوک پیدا ہو گا اور آپس میں جھگڑا اور فساد مٹ جائے گا " ۲ - A سردار دیوان سنگھر صاحب مفتون ایڈیٹر ریاست دہلی نے اپنے موقر اخبارمیں متعدد بار عام احمدیوں کی عموماً در ولیوں کی پاک نہاد اور خدا نما جماعت کی خصوصا بہت تعریف کی مثلا در نومبر ان کے پرچر میں لکھا۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ جہاں تک اسلامی شعار کا تعلق ہے ایک معمولی احمدی کا دوسرے مسلمانوں کا بڑے سے بڑا ند ہی لیڈر بھی مقابلہ نہیں کر سکتا۔کیونکہ احمدی ہونے کے لئے یہ لازمی ہے۔کردہ نماز ، روزہ ، زکواۃ اور دوگر دو اسلامی احکام کا عملی طور پر پابند ہو۔چنانچہ ایڈیٹر ریاست کو اپنی زندگی میں سینکر دی صدیوں سے ملنے کا اتفاق ہوا۔اور ان سینکڑوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں دیکھا گیا ہو کہ اسلامی شعارہ کا پانبد اور دیانتدار نہ ہو۔اور ہمارا تجربہ ہے۔کہ ایک احمدی کے لئے بددیانت ہونا ممکن ہی نہیں۔کیونکہ یہ لوگ خدا سے ڈرتے ہی نہیں بلکہ خدا سے بدکتے ہیں۔اور ان کے مبلغین کو دیکھ کر تو عیسائیوں کے بلند کیریکٹر کے وہ پادری یاد آجاتے ہیں جن کے اسوہ حسنہ کو دیکھ کر ہندوستان کے لاکھوں انسانوں نے عیسائیت کو قبول کیا " سے ه : بحواله الفرقان در دیشان قادیان نمبر ۱۳۳۰ به ه: ايضا من ايضا