تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 399 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 399

۳۹۸ تمام حصوں سے آئیں گئے۔جاب اں نہ میں شرکت کے لئے قادیان میں جمع ہوں گے۔اس قسم کا جلسہ آج سے ساٹھ سال پیشتر ہوا جسکی ابتداء حضرت، مرنه اعلام احمد صاحب، بانی سلسلہ احمدیہ نے کی۔مطلب کی تقسیم سے پہلے اس مقام میں دنیا کے تمام علاقوں سے زائرین جمع ہوتے تھے لیکن تقسیم کے بعدان کی تعداد چند سو رہ گئی۔۔۔۔۔۔احمدیہ جماعت بین الاقوامی حیثیت رکھتی ہے۔کیونکہ اس کی شاخیں یورپ اور ایشیا کے مختلف ممالک افریقہ اور شمالی اور جنوبی امریکہ کے متفرق حصول اور آسٹریلیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔ہر جگہ اس کے ماننے والے اپنی مخصوص تعلیم اور تبلیغی سرگرمی کے لئے مماز اور نمایاں ہیں۔احمدیوں کی تعداد کا اندازہ دس لاکھ کے قریب ہے۔پرانے خیالات کے مسلمانوں کے عقید سے کے خلاف مسلمانوں کی یہ جماعت ان اختلافات کو جو مختلف قوموں اور مذاہب میں پائے جاتے ہیں تسلیم کر کے یہ مناسب بجھتی ہے کہ ان اختلافات کو جبرا طاقت سے نہ مٹایا جائے بلکہ وعظ و نصیحت ادور باہمی مفاہمت سے دُور کیا جائے۔احمدیہ جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ تمام مذاہب جو خدا تعالی کی طرف سے ہونے کے مدعی ہیں اور ایک لمبے عرصہ سے دنیا میں قائم ہیں۔وہ یقینا سچے اور خدا کی طرف سے ہیں۔گو یہ ہو سکتا ہے کہ لیا زمانہ گزرنے کی وجہ سے ان کی تعلیم میں بگاڑ پیدا ہوگیا ہو اور انکی روحانی طاقت کمزور ہوگئی ہو۔احدیت کی تعلیم کی رو سے یہ نا جائز ہے کہ مذہبی معاملات میں طاقت اور جبر کا استعمال کیا جائے۔عقیدہ ، ضمیرا در عمل کی آزادی احمدیوں کے نزدیک ہر مذہب کا بنیادیتی ہے۔اور جہاد کا خیال جس رنگ میں پیڑا نے خیالات کے دوسرے مسلمانوں میں رائج ہے جس کی رو سے مذہب کے نام پر جبر اور طاقت کا استعمال جائز ہے احمدیت اس کو نہیں مانتی۔سیاسی لحاظ سے احمدیہ جماعت کا یہ اصول اور طریق ہے کہ احمدی جس ملک یا علاقہ میں بھی رہتے ہیں یہاں کی قائم شدہ حکومت کے وفادار ہوتے ہیں۔اور ہر رنگ میں ملک کے قانون اور دستور کی اطاعت کرتے ہیں۔یہ بات ان کے بنیادی اصولوں اور مذہبی عقائد میں شامل ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کریں اور کسی صورت میں بھی سٹرائیک ہڑتال) ، تحریک عدم تعاون یا کسی بادت یا غیرقانونی کاروائی میں شامل نہ ہوی عنہ کے فسادات کے دوران میں (حضرت) مرزا بشیر الدین محمود احمد (صاحب) اپنے ایک ہزار سے زائد پیروؤں کے ساتھ پاکستان ہجرت کر گئے۔آپ اپنے پیچھے تین صد کے قریب اپنے مخلص پیرو مذہبی مرکز کی حفاظت کیلئے چھوڑ گئے۔پاکستان میں آپ نے عارضی مرکز پہلے لاہور میں قائم کیا اور پھر ربوہ میں۔اب تک بھی قادیانی اہم مرکز ہے۔اور یہیں سے صدر انجمن مدیہ قادیانی اپنی ۱۳۵ شاخوں کی جو ہندوستان کے مختلف حصوں میں پھیلی ہوئی