تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 395
۲۹۴ مہاجرت اختیار کی توظاہر ہے کہ وہ مجبور تھے لیکن میں بزدلی سے سجدوں کے اماموں۔خانقاہوں کے جھاڑوں اور سر این شریف و آن شریف کے سجادہ نشینوں نے فرار اختیارہ کیا۔وہ اسلام کی سپرٹ اور تعلیم کے صریحاً خلاف تھا۔تمام عمر اوقات کی کمائی اپنے نفس پر صرف کر کے شعائر اللہ کو کافروں کے حوالہ کر دیا اور خود بھاگ نکلنا قبل شرم عمل ہے۔خواجہ بختیار کئی دہلی کے سجادہ نشین صاحب جو اس مقدس تربت کی کمائی تمام عمر کھاتے رہے۔یوں بھاگے کہ بستی کے لوگوں سے فرمایا۔حضرت صاحب نے خواب میں حکم دیا ہے۔کہ میں پاکستان جا رہا ہوں تم بھی چلو۔اجمیر کے متعلق حالی ہی میں حیدر آباد سندھ کے متولیوں کا ایک پوسٹر آیا تھا جس مں درج تھا کہ خواجہ اجمیر کا رس دار الکفر کی بجائے دارالسلام میں منایا جارہا ہے۔اور تمام اہل اسلام کو دعوت شمول ہے۔امام ناصرالدین جالندھر کا دورہ آج سے پیار در دادگا نہ پڑا ہوا ہے۔مجدد الف ثانی کے مزار اقدس پر آج نہ کوئی چراغ جلانے والا ہے اور نہ کوئی پھول چڑھانے والا ہے۔اور لحقہ مسجد میں اذان دینے والا ہے۔اسی طرح ہزاروں مساجد جن میں کئی مسجدیں یاد گا رہیں ہیں۔یونی پڑتی ہیں۔اور ان گنت اپنی خدمت کھو کر گوردواروں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔بعض کو گھروں کی شکل دیدی گئی ہے اور بہت سی اصطبلوں اور پاخانوں میں بدل دی گئی ہیں۔کیا ان مساجدا در معاید کے ٹھیکیداروں کو علم ہے کہ ان کے اس اسلام پر خود کفر کی جبیں سے عرق ندامت کے قطرسے بھلکتے ہیں ؟ ان سطروں کے لکھنے کی ضرورت اسے لاحق ہوئی کہ انقلاب کی تازہ اشاعت میں ایک قادیانی ملک صلاح الدین ایم۔اے کا ایک مکتوب چھپا ہے جسے پتہ چلتا ہے کہ آج بھی مرزا غلام احمدکے مزار کی حفاظت کے لئے وہاں جانتار مرزائی موجود ہیں۔اور اب بھی یہاں کی مسجدوں میں اذان دی جاتی ہے۔ایک طرف نبوت باطلہ کے پیروں کا اعتقاد دیکھئے کہ وہ اپنے مقدس مقام کی حفاظت کے لئے اب تک ڈٹے ہوئے ہیں۔اور اپنی مسجدوں کی آبرود کو بچائے رکھا ہے۔لیکن ذر ان سے بھی پوچھے جو درگاہ امام ناصریہزار مجددالف ثانی اور اسی طرح در سر سے سینکڑوں اہل اللہ کے مقبروں کی آمدنی کا رتے رہے۔اور اب دارالکفرکی بجائے دارای سلام میں عرس منا کر ضعیف الاعتقاد مریدوں کی جیبیں ٹول رہے ہیں۔ملک صلاح الدین قادیانی کے مکتوب کی عبادت کے بعض حصص حسب ذیل ہیں:۔" ہم قریباً سوا تین سواحمدی مسلمان قادیان ضلع گورد اسپو میں مقیم ہیں۔ابتدا میں تو بری حالا کے ماتحت قریبا یقین تھا کہ ہم موت کے گھاٹ اتار دیئے جائیں گے۔لیکن اب حالات روز بروز سرد ہر تے جاتے ہیں۔ہمارے یہاں قیام سے بفضلہ تعالیٰ اغوا شدہ مستورات کو بہت فائدہ ہوا ہے۔چونکہ کشمیر کی مرصد اس ضلع سے ملتی ہے۔اسے اس ضلع کو متنوع قرار دیدیا گیا ہے۔اور یہاں پاکستان کی ملٹری یا پولیس 1