تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 393
بل تمیز و تفریق مذہب و ملت عورت مرد اور بچے بیشمار روزانہ اس کی فائدہ اٹھاتے ہیں۔اور عزیز مکرم ڈاکٹر بشیر احمد صاحب جو ان دنوں انچارج اور چند نوجوان ان کی زیر قیادت ان خدمات پر مامور ہیں۔نہایت توجہ ، ہمدردی اور محبوت از فی سے مفوضہ خدمات بجالا رہے ہیں۔جسکے نتیجہ میں رجوع خلق میں روز افزوں تم تی داضافہ نظر آتا ہے۔اور اب ڈاکٹر عطر الدین صاحب کے آجانے پر ایک ٹرنری ہسپتال بھی جاری کر دیا گیا ہے۔قیر بہشتی کی ہر قبر جبکہ ہر قبر کے ایک ایک کو نہ اور گوشہ میں روشوں اور نالیوں اور پودوں اور درختوں کی جھہ خدمت اس محصور فخلق خدا نے کر دکھائی ہے۔۔۔۔قابل رشک ہے۔جس کو دیکھکر میں ششدر ہو گیا۔اور مرحبا اور صد آفرین کی صدا از خود دل کی گہرائیوں سے بلند ہونے لگی۔مقبرہ کے گر دچار دیواری میں محنت اور جانفشانی کے ان ہو نہاروں نے تیار کی وہ بے مثال ہے۔جنوبی جانب جنوب مشرقی اور جنوب مغربی دونوں کونوں میں دو کوارٹر دو دو منزله بغرض رہائش محافظین بنا کہ نہایت ہوشیاری و عقلمندی اور محبت کا مظاہرہ کیا ہے۔کو اردوں میں پانچ پانچ نوجوان دن رات رہتے ہیں۔اسی طرح مزار سید نا حضرت اقدس علی الصلاة و السلام کی چار دیواری کے شمال مشرقی کو نہ پر بھی ایک دو منزلہ کوارٹر بنا یا گیا ہے۔اور ایک کو ٹھڑی جو پہلے سے جنوب مغربی کون چھانہ ویواری کے باہر بھی اس کو بھی بغرض حفاظت دو منزلہ بنا دیا گیا ہے اور آج کل تیس نوجوان صرف مقبرہ بہشتی کی حفاظت پر مامور ہیں۔جو وقار عمل کے وقت دوسرے در ولیوں کے ساتھ ال کہ بھی کام کرتے ہیں۔الغرض۔۔۔۔۔یہ تو ہے ایک مختصر سا خاکہ - سب کچھ کھول بھی۔۔۔اگر حلال جائے۔اس کی رضا حاصل ہو جائے اور حضور کے زیر قیادت و ہدایت پر را این ہمارے لئے آسان ہوتی جائیں اور مبرد استقلال سے تحصیل علوم در نمیه عیادت و ذکر اپنی خدمت خلق اور روحانی تہ قیات کے سامان میسر رہیں۔نیتیں نیک اور اعمال ہمارے صالح ہوں تو عجب نہیں کہ وہ مقام عالی حضور کے غلاموں کو اس محاصرہ کی حالت اور مشکلات کے دور میں میسر آجائے تو یہ سودا بہت سستا اور مفید ہے۔اورمن آتا یا ہماری میں تبدیلی کے لئے تصویر ہمیشہ تحریکیں فرماتے چلے آئے ہیں۔اور رات اور دن حضور کے اسی کو ئی اور منکر میں گزرتے چلے آئے ہیں۔کیا عجب کہ وہ اس قیامت ہی سے وابستہ ہوں یا در قضاء و قدر کا قانی خیلی بی مقصود کے ان مقاصد کی تو فیق جماعت کو عطا فرمادے اور پاک تبدیلی اسی قانون پر منحصر ہو۔خدا کرے ایسا ہی ہو۔دنیا تو گئی اگر خدا مل جائے تو پھر کوئی سنسارہ ہے نہ گھاٹا۔نوجوانوں کی کایا پلٹ ہوگئی ہے یا کم از کم ہورہی ہے۔خدا کہ ہے کہ اس حرکت میں برکت ہو۔اندر اس قدم کے