تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 392 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 392

۳۹۱ بھر گیا۔اور امید کی روشنی دکھائی دیتی ہے۔۔۔۔نہ صرف یہی کہ فرائض کی پابندی ہے۔بلکہ نوا نسل میں اللہ تعالئے کے فضل سے یہی کثرت۔ہجوم اور انہماک پایا۔مقامات مقدس کے کون کونہ کے علم پانے کا موٹان نوجوانوں کو بھی دیکھا۔اور پھر عامل بھی یعنی کہ حالت یہ ہے۔کہ اس تین ہفتہ کے عرصہ میں میں نے بارہا کوشش کی کہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام کے بیت الدعامیں کوئی لمحہ تنہائی کا مجھے بھی مل سکے۔مگر ابھی تک یہ آمد پوری نہیں ہوئی کہ جب بھی گیا نہ صرف یہ کہ دو خالی نہ تھا بلکہ تین تین چار چار نو جوانوں کو وہاں کھڑے اور رکوع و سجود میںلڑتے اور گڑگڑاتے پایا۔اسی پریس نہیں بلکہ متصلہ دالان اور بیت الفکر تک کو اکثر بھر پورا در محور پایا۔در تہجد کی نماز چاروں مساجد میں برابر باقاعدگی اور شرائط کے ساتھہ یا جماعت ادا ہوتی ہے۔اور بعض درویش پنی جگہ پر بعض اپنی ڈیوٹی کے مقام پر اداکرتے ہیں۔کھڑے کھڑے چلتے پھرتے بھی ان کی زبانیں ذکر ہی سے زیم اور تہ ہوتی دیکھی اور سنی جاتی ہیں۔اور میں یہ عرض کرنے کی جرات کر سکتا ہوں۔کہ نمازوں میں حاضری الہ تعالے کے فضل سے سو فیصدی ہے۔درس تدریسی اور علیم وتعلم کاسلسلہ دیکھکر دل باغ باغ ہوجاتا ہے۔ہر سجد میں ہر زمانہ کے بعد کوئی نہ کوئی درس ضرور ہوتا ہے۔اور اس طرح قرآن، حدیث اور سلسلہ کے لٹریچر کی تردیجی کا ایک ایسا سلسلہ بھاری ہے جس کی بنیاد مسیح اور نیک نیت پر شوق اور لذت کے ساتھ اُٹھائی کھارہی ہے۔نام علوم کے درس ان کے علاوہ ہیں۔اور روزانہ وقار عمل تعمیر ومرمت ، صفائی واپائی مکانات ، مساجد اور مقابر راستے اور کو چھا بلکہ نالیاں تک۔اس کے علاوہ خدمت تعلق بڑی بشاشت اور خندہ پیشانی سے کی جاتی ہے جس میں ادنیٰ سے ادنی کام کو کرنے میں تکلیف، ہتک یا کبیدگی کی بجائے بشانت و لذت محسوس کی جاتی ہے۔گیہوں کی بوریاں آٹے کے بھاری پتیلے اور سامان کے بھاری صندوق ،ایکس اور گھٹے یہ سفید پوش بہ خوشی وضع اور شکیلے نوجوان حبس بے تکافی سے ادھر سے اُدھر گلی کوچوں میں جہاں اپنے اور پرائے مرد اور عورت اور بچے ان کو دیکھتے ہیں لئے پھرتے ہیں۔قابل تحسین وصد آفرین ہے اور ان چیزوں کا میرے دل پر اتنا گہرا اثر ہے جو بیان سے بھی باہر ہے۔یہ انقلاب ، تغیر اور پاک تبدیلی دیکھکر میرے آقا بے ساختہ زبان پر جا میں ہوا۔پہر بلا کہیں قوم را حق داده اند زیر ان گنتی کرم نہ وہ آنکھ خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔خدمت خلق کے سلسلہ میں ہمارا ہسپتال جو خدمات بجالا لہ پا ہے وہ بھی اپنی مثال آپ سے