تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 391
۳۹۰ اور اس نیکی کے کہنے کی توفیق دی۔کہ معلوم نہیں پھرکسی کو منی بھی ہے کہ نہیں اور اگر ملی بھی ہے تو کیک اور سب سے زیادہ تو یہ کہ اب بعد میں جو آدیں گے۔وہ پہلے ٹھہرنے والے نہ کہلا سکیں گئے۔ہمارے شیر ولی خان صاحب خصوصا بار بار کہتے ہیں۔کہ خدا کا کتنا فضل ہذا کردہ ٹھہر گئے۔چونکہ انہوں نے کام پچھلے دنوں بہت اچھا کیا تھا اسے ان کو بھجوانے کا خیال تھا۔مگر جیساکہ اوپر کھا گیا ہے۔یہ جذبہ ہر ایک کیا ہے۔وہ چونکہ حضرت ام المومنین کے مکان کے ایک حصہ میں رہتے ہیں۔اسی یہی کہتے رہتے ہیں کہ دو شیر ولی گر تو یہاں نہ رہتا توحضر مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر میں رہنے کی اور دعائیں کرنے کی کہاں توفیق ملتی تھی۔وقت تو گر جا دیگا مگر یہ خدا تعالی کے انعامات اور یہ باتیں دل سے کبھی بھول نہیں سکتیں کہ الہ تھانے نے ہماری آزمائشوں کو بھی ہمارا انعام بنا دیا کہ نے ت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشہور ممتاز اور بلند یایہ مانی مربای بالای صادقادیانی کی چشم دی شہادت حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی نے جو اگلے ال ۳۱ ماه ہجرت امی یہ ہی کو مستقل طور پر قادیان تشریف لے گئے ، اس ماہ ہجرت اسمی یہ ہی کو حق مسلح بود کی خدمت میں ایک مفصل مکتوبہ تحریہ کیا جس میں درویشان قادیانی کے حالات کو الف پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے قادیان پہنچے میں روز ہوئے ہیں۔پہلا ہفتہ تقریبا آٹھ ماہی جدائی کی حسرت و رمان کی توانی کی کوشش میں گہ رگیا۔اور ماحول کی طرف نظر امانے کی بھی فرصت نہ ملی۔دوسرے ہفتہ کچھ واس درست ہوئے تو دیکھتا اور خسووس کرتا ہوں کہ ایک نئی زمین اور سنہ آسمان کے اتارنمایاں ہیں۔ایک تغیر ہے عظیم ، اور ایک تبدیلی ہے پاک ہو یہاں کے ہر درویش میں نظر آتی ہے۔چہرے ان کے چمکتے۔آنکھیں ان کی روشن۔حوصلے اُن کے بلند پائے۔نماز دی میں حاضری سوفیصدی - نمازیں نہ صرف رسمی بلکہ خشوع خضوع سے پر دیکھنے میں آئیں مرقت دسوز یک سوئی دانتہال محسوس ہوا۔مسجد مبارک دیکھی تو پر مسجد اقصی دیکھی تو باند نق۔مقبرہ بہشتی کی نئی مسجد میں کی چھت آسمان اور فرش زمین ہے۔وہاں گیا تو ذاکرین وعابدین سے بھر پور پائی۔ناصر آباد کی مسجد ہے تو ضد العائنے کے فضل سے آباد ہے اذان و اقامت برابر پنجوقته جاری۔۔۔۔مساجد کی یہ آبادی در رواق دیکھ کر اپنی بشارت کی یاد سے دل سرور سے ه - الفضل اصلح جنوری ا م م :