تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 390
حضرت امیر المومنین ایدہ کے سب ارشادات پر پورا عمل کیا عباد سے اور اس کے لئے نہ صرف اجتماعی طور پر کوشش کی گئی بلکہ ہر ایک شخص فرداً فرد اس کوشش میں لگ گیا تا کہ اسکی بھائی کی شستی سے احمدیت کو یا جماعت کو نقصان نہ ہو۔اور وہ لوگ ہو کہ پہلے فرائض پر ہی اکتفا کرتے تھے بہت شوق سے نو افضل پر زور دینے لگے اور جو کہ پہلے ہی نو انسل کے عادی تھے انہوں نے مزید عبادات پر زور دیا۔مساجد میں چھ وقت کی نمانہ پا نچ فرض نمازیں اور ایک تہجد لوگ اس شوق اور ذوق سے ادا کر تے ہیں اور اس طرح سنوار سنوار کہ اپنی عبادت کرتے ہیں کہ خیال ہوتا ہے کہ بچپن سے ہی اس کے عادی ہیں۔اور ر نہ صرف مسجدوں میں بلکہ با ہر بھی لوگ زیادہ وقت خاموشی اور ذکر الہی میں گزار تے ہیں۔پیرا در جمعرات کے دن تو ہر شخص روزہ رکھتا ہی ہے۔الا ماشاء اللہ جو طاقت رکھتے ہیں وہ ہر روز روزہ رکھتے ہیں۔اور جہاری بڑی بڑی تقریروں کے بعد کسی کو کسی وظیفہ یا خاص عبادت کے لئے آمادہ نہ کیا جاسکتا تھا یہاں اب کسی کے کان میں کسی خاص طرز کے وظیفے کی بھنک پڑ جائے تو اُسے شروع کر دیتے ہیں۔بہشتی مقبرہ بلا کر لوگ باقاعدگی سے دعا کرتے ہیں۔اور ہر ایک کی دعا میں درہی المخارج اور زاری ہوتی ہے۔جس کی حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالے نے یہاں کے رہنے والوں سے اُمید کی تھی۔حضرت مسیح موعود علی الصلاة والسلام کی کتاب کا مطالع ان کا ایک شغف ہے۔زیادہ وقت مساجد میں گزارنا اور الہا اور اسکے رسول کی باتیں کرنا۔لغویات سے پر ہیز ان کی ایک عادت بن گئی ہے۔لڑائی جھگڑے سے اور ایسی جگہوں سے جہاں فار یا فتنہ کا امکان ہو بہت اجتناب کیا جاتا ہے۔القصہ یہ خدا کا فضل ہے کہ اس نے اس چھوڈا کی جماعت کو اتنی جلدی اپنے اندرای عظیم الشان تبدیلی پیدا کرنے کی توفیق دی۔صحت کا بھی خیال ہے۔عصر کی نماز کے بعدوانی بابای ما کی اور بعض دوسری کھیلیں کھیلی جاتی ہیں۔صبیح ورزش اور پی ڈی بھی ہوتی ہے۔اسکے علاوہ جماعتی کام مثلا کمرہ یا دیواند وغیرہ بنانے کے لئے مٹی اور اینٹوں وغیرہ کے لانے کا کام بڑی خوشی سے کیا جاتا ہے۔ابھی پیر دارد کے لئے ایک کمرہ بہشتی مقبرہ میں بنایا گیا ہے۔اور دو اور بنائے جار ہے ہیں۔اس کے علاوہ بہشتی مقبرہ کے ارد گرد دیوار بنانے کا بھی ارادہ ہے۔انشاء الله۔۔۔۔سب سے آخر یہ بیان کر دنیا ضروری ہے کہ یہاں میں قدر لوگ ٹھہرے ہیں کسی کے دل میں بھی ذرا بھی انقباضی نہیں کہ ہم کیوں میرے بلکہ دل سے خوش ہیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ خدا نے یہ فضل کیا کہ ہمیں یہاں ٹہرنی کا موقعہ ملا۔