تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 357
۳۵۶ مگر اس روز مقامی فون کے اپر میٹر نے چوہدری ظہور احمد صاحب کو بتایا کہ گذشتہ رات ہی ڈپٹی کمشنر صاحب گورداسپور کا فون سیمیسٹریٹ صاحب قادیان کو آیا تھا کہ کس کو گر فتار وغیرہ بالکل نہیں کرنا۔پیر شنکہ احمدیوں کو بہت خوشی ہوئی کہ اب میجسٹریٹ صاحب شمس صاحب پر ہاتھ نہیں ڈال سکیں گے۔رماه نبوت تو میرے لاہور سے بذریعہ فون یہ اطلاع ملی کہ مرزا اسظفر احمد صاحب نے ڈپٹی کمشنر صاحب گورداسپور کو فون کیا اور مجسٹریٹ صاحب کی دھمکی کی نسبت بات ہوئی۔ڈپٹی کمشنر صاحب نے کہا کہ شمس صاحب کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ه رماه نبوت / نومبر۔ساڑھے آٹھ بجے شب کے قریب ایک کٹر ائے قادیان آیا کیس میں مرز اظفر احمد صاحب اور مرنہ اخلیل احمد صاحب بھی تھے۔ار ماہ بوت نومبر تقریباً ایک بجکر میں منٹ پر قادیان کی چوکی پولیس کے انچارج صاحب اور میجسٹریٹ صاحب داموں ک سنگھ) اور بعض سپاہیوں کے ہمراہ الدار میں آئے اور حضرت میابی بشیر احمد صاحب کے اور حضرت خلیفہ ایسی الثانی المصلح الموعود کے مکان کی درمیانی پرائیویٹ گلی میں مٹی کے اُن ڈھیروں کو الٹ پلٹ کے دیکھنا شروع کر دیا جو فسادات شروع ہونے سے پہلے آگ بجھانے کے لئے رکھے ہوئے تھے۔پولیس کے سپاہی پندرہ بیس منٹ تک یہ کام کرتے رہے۔پتہ چلا کہ میجسٹریٹ صاحب کو ایس پی پھیکا سنگھ صاحب نے بھجوایا ہے کہ بجا کر ان ڈھیروں کے نیچے سے ناجائز اسلحہ بر آمد کریں۔آخر جب کچھ نہ نکلا تو یہ لوگ واپس چلے گئے۔امار ماہ نبوت / نومبر۔اسی دن ایک مسلمان عورت مع اپنے دو بچوں کے موضع ظفر دال سے بھاگ کہ آئی۔جس نے بتایا کہ وہاں سکھوں کے قبضہ میں تھی۔کئی دن سے بھاگنے کا ارادہ کر رہی تھی آخر آدھی رات کے وقت بھاگ کے قادیان میں پناہ لینے کا موقعہ مل گیا۔اور اس کو کنوائے میں پاکستان بھجوا دیا گیا۔ایک دردناک سانحہ یہ دیکھنے میں آیا کہ اس روز نو دس سال کی ایک معصوم بچی قادیان کے ایک محلہ سے ملی جو قریبا دس دن سے وہاں پڑی تھی۔بیچاری کی صرف ہڈیاں رہ گئی تھیں جسیم دوہرا ہو گیا تھا اور فاقوں نے اس کا دماغ مختل کر دیا تھا۔اس بچی کی خوراک اور علاج معالجہ کا انتظام کیا گیا۔حضرت سیدنا المصلح الموعود کا نہایت اہم مکتوب اب و کود در استان قادیان کے دورہ ہائی سب اب چونکہ احمدی جلد پاکستان میں آنے والے تھے اور درویشان قادیان کےلئے زمیں ہدایات اور اہم فیصلے - شمار اندکی حفاظت کا کام نئی در تعقیق