تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 356 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 356

۳۵۵ بہت پر جوش تقریریں کیں۔۲۶ ماه اتحاد / اکتوبر۔صبح نوبجے نماز عید ہوئی جو موں نا جلال الدین صاحب اس نے مسجد اقصی میں پڑھائی۔تقریباً باره نیره مواحد می نمانہ میں شامل ہوئے۔اُن دنوں مسلمان فوج کے بعض سپاہی بھی قادیان میں متعین تھے جن میں سے بعض مسجد انفی کی بھت پر ڈیوٹی دیتے رہے۔جماعت احمدیہ قادیان کی طرف سے مسلمان فوج کے سپاہیوں کے اعزاز میں حضرت ام طاہر مکان کے اور پر صحن میں عشائیہ دیا گیا۔اس تقریب پر کچھ نہیں بھی پڑھی گئیں اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احد صاحب نے ایک مختصر تقریہ بھی فرمائی جس میں جماعت احمدیہ کے قادیان سے گہرے تعلق پر اختصار کے ساتھ روشنی ڈالی۔۲۷ ماه اخاء / اکتوبر۔اس دن قادیان کے ماحول سے متواتر اطلاعات موصول ہوئیں کہ سکھ وغیر ہ حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔یہ بھی خبر پہنچی ہے کہ بٹالہ اور امرتسر کے غیر مسلم یہ سازش کہ رہے ہیں کہ قادیان کر آنے والے کنوائے پر حملہ کر کے اسے تباہ کر دیا جائے۔۲۸ ماه اخفاء / اکتوبر - اطلاع ملی کہ سکھ کافی تعداد میں نہ یہ سکول میں اکٹھے ہور ہے ہیں۔شاید حل کریں مگر کچھ دیر بعد یہ لوگ منتشر ہو گئے۔۳۱ ماه احاول اکتوبر۔صبح گیارہ بجے کنائے تقریبا چار سو پچاس آدمی کیلے کم رندانہ ہو گیا۔جماعت کا ریکارڈ اور کتب وغیرہ کے چڑھانے میں دقت پیدا ہو گئی تھی۔مجسٹریٹ صاحب علاقہ (مسٹر سوہنی) نے انکار کر دیا کہ سامان کوئی نہیں چڑھنے دوں گا۔آخر مرزا عبدالحق صاحب اور کنوائے کے ساتھ آنے والے کیپٹن گلزار صاحب کی کوشش سے مجسٹریٹ صاحب مان گئے اور مشکل یہ جماعتی سامان جھا سکا۔مجسٹریٹ صاحب نے بعض لوگوں کے سامان کی تلاشی بھی لی۔مگر پھر کپیٹن گلزار صاحب نے کہا۔آپ قاشی نہیں لے سکتے کیونکہ دونوں سکتیں کا معاہدہ ہے کہ تلاشی نہیں ہوگی اگر آپ تلاشی لینا چاہتے ہیں تو لکھ کر دے دیں۔اس پر میجسٹریٹ صاحب نے تلاشی کا ارادہ ترک کر دیا۔۲ ماه نبوت / تو میبر - شام پانچ بجے تین احمدی نوجوان دار الانوار کی سڑک پر سیر کرنے گئے تھے۔کہ وہاں فوج کے ایک سپاہی نے ان کو مشتبہ قرار دیکر پکڑ لیا۔اور جبر کی طرح لاٹھیوں سے زود کوب کیا۔آخر مولوی عبد الرحمن صاحب حیث اور فضل الہی صاحب پولیس چوکی گئے۔۔۔اور کچھ دیر بعد ان تینوں نوجوانوں کو لے کئے۔۳ ماه نبوت / نومبر قبل ازیں میجسٹریٹ صاحب نے مولوی جلال الدین صاحب شمت کو گرفتار کرنے کی دھمکی دی تھی