تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 355
۳۵۴ تھے اندر بلا لیا اور کہا، غواشدہ عورتوں کی بازیابی اور غلط افواہوں کے تدارک وغیرہ کے لئے ایک امن کمیٹی قائم کی بجائے۔چنانچہ ان کی تجہ نیہ پر ایک کمیٹی بن گئی جس میں دو ہندو ردو سکھ اور دو احمدی نمبر بنے۔۲۳ را ضاء راکتومیں اس روز تقریباً ساڑھے دس بجے جناب حسین شہید صاحب سہروردی۔میجر جنرل تھمایا صاحب کے ساتھ ہوائی جہانہ پر آئے اور جہاز سے اتر کر سید ھے شہر میں احمدیوں کے حلقہ کی طرف آئے مگر میجر جنرل تھمایا صاحب تو واپس بیت المظفر پہلے گئے۔سہر وردی صاحب کے ساتھ ڈاکٹر ڈنٹ مہترہ صاحب بھی تھے جو گاندھی کے خاص نمائندے کی حیثیت سے آئے تھے۔ان لوگوں کو حضرت میاں بشیر احمد صاحہ کے مکان پر بٹھایا گیا اور حضرت میاں ناصر احمد صاحب ، ملک غلام فرید صاحب ، مولوی بجلال الدین شمس صاحب اور مروہ منور احمد صاحب ملاقات کے لئے گئے اور ان کو نہایت تفصیل کے ساتھ قادیان کے گذشتہ واقعات سے مطلع کیا جن کو دونوں نے بہت دلچسپی سے سنا اور ساتھ کے ساتھ نوٹ بھی لیتے گئے۔ساڑھے گیارہ بجے تک ملاقات ہوتی رہی۔دونوں ہی ان واقعات سے بہت متاثر معلوم ہوتے تھے۔اس موقعہ پر بنگال کے احمدیوں کا رند بھی سہروردی صاحب سے ملا۔اس کے بعد سہروردی صاحب کو مسجد اقصی کی وہ جگہ دکھائی گئی جہاں بم گرائے گئے تھے۔پھر جناب سہروردی صاحب نے بعض احمدیوں کے ساتھ منارہ مسیح پر سے مسجد فضل دار الفتوح - دار الرحمت وغیرہ محلے دیکھے جن پر سکھوں نے حملہ کیا تھا۔جناب شهر دردی صاحب نے یہاں سے شہر کی تصویر یں ہیں۔اور دور بین پکڑ کر کہا کہ لاڈ میں مسلمانوں کا رہ کا رج آخری بار دیکھ لوں بہو اب غیر مسلموں کے ہاتھوں میں جا رہا ہے۔اس پر ڈاکٹر ڈنشا مہتہ نے کہا کہ مجھے یقین ہے۔یہ عارضی طور پر جا رہا ہے پھر ہر جلدی ہی واپس آئے گا۔اسکے بعد جناب سہروردی صاحب اور ڈاکٹر ڈنشا مہتہ وغیرہ جیپوں میں بیٹھے کہ بیت الظفر گئے۔جہاں سے یہ لوگ بذریعہ ہوائی جہاز واپس چلے گئے۔جناب سہر وردی صاحب اور ڈاکٹر ڈنشا نے جاتے ہوئے وعدہ کیا کہ ہم وزیر اعظم پنڈت جواہر لال صاحب نہرو کو سب واقعات بتائیں گے اور آپ کے ڈھائی تین سنہ آدمیوں کے یہاں بحفاظت رہنے کا پورا انتظام ہور بھائے گا۔۲۴ راخاء / اکتوبر - صبح کوس ساره بائی صاحبہ اور مسٹر کو شنا مورتی پھر آئے اور حضرت میاں ناصر احمد صاحب به مرند عبد الحق صاحب سے حضرت میاں بشیر احمد صاحب کے مکان میں ملاقات کی۔بہشتی مقبرہ بھی دیکھنے گئے۔اس دن اس کمیٹی کا ایک جلسہ بھی مسجد نور مں ہوا جس میں مقامی ہندوؤں سکھوں نے احمدیوں کے خلاف