تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 354 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 354

۳۵۳ لیفٹیننٹ کرنل نے کہا کہ جو یہاں رہیں گے وہ آزادی سے دوسرے شہریوں کی طرح رہیں گے محصور ہو کہ نہیں رہیں گے۔انہوں نے پوچھا کہ سل ملٹری کہاں ٹھہرائیں اور کیا مخلوط ملٹی پر پر رکھی جائے؟ تو صاحبزادہ صاحب نے کہا سلم ملٹری آپ کے ماتحت ہو جیسے آپ پسند کریں اپر اعتراض نہیں۔قادیان میں احمدیہ محلہ کی حد بندی مدار ماہ انتفاء / اکتو یہ احمدی محلہ کی حد بندی سے ا ا ا ا ا ا ا ا به کے آخری کنوائے تک کے بعض کوائف کو جوئی اور پاکستان سے آخری کنوائے دار ماہ نبوت) سے کر دار نومبر نومبر ا ورزش کو قادیان میں پہنچا۔اسی درمیانی عرصہ کے بعض کو ان کا کس قد تفصیل مکرم صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب کی ایک ڈائری سے ملتی ہے جو آپ کئی ایام میں لکھا کرتے تھے۔ذیل میں اس ڈائری سے بعض واقعات ملخصا درج کئے جاتے ہیں :- داد ماه اضاء/ اکتوبیر۔بورڈ نگ تحریک جدید سے احمدی احباب واپس آنے شروع ہو گئے تا سب احمدی شہر ہی میں اکٹھے ہو جائیں۔وار ماہ اضاء / اکتوبر۔صبح نو بجے میں سارہ بائی قادیان آئیں۔احمدیوں کی طرف سے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب - مولوی جلال الدین صاحب شمس - کرم ملک غلام فرید صاحب - مرزا عبدالحق صاحب اور مکرم مروز امور احمد صاحب ان کو بنے بیت الظفر گئے۔دہاں جا کر معلوم ہوا کہ میں سارہ بائی کے ساتھ مسٹر کریشنامورتی اور ڈاکٹر سونٹ صاحب بھی آتے ہیں۔موخر الذکر ہسپتال کی حالت کا جائزہ لینے آئے تھے۔صاحبزادہ مرزا منور احمد صدا درد نے ان کو ہسپتال کے متعلق تازہ کو الف بتائے اور پھر ان کے ساتھ موٹریں بیٹھکر ہسپتال گئے۔دیکھا تو تمام تالے ٹوٹے پڑے تھے۔قیمتی سامان لوٹ لیا گیا تھا۔اپریشن روم سے سب کے سب اوزار لٹ چکے تھے۔ڈاکٹر سوفٹ صاحب نے بے ساختہ کہا، افسوس ہسپتال برباد کر دیا گیا ہے۔۔۔۔۔بعد ازاں ڈاکٹر سوفٹ کے کہنے پر ہسپتال میں فوجی پہرہ لگا دیا گیا۔تھوڑی دیر بعد مرزا منور احمد صاحب دوبارہ حضرت میاں ناصر احمد صاحب ، ملک غلام فرید صاحب ، مولوی جلال الدین شمس صاحب اور مرزا عبد الحق صاحب کے ساتھ بیت الظفر گئے۔جہاں ملک غلام فرید صاحہ نے مسٹر کہ شنا مورتی صاحب کو سب واقعات بتائے اور کہا کہ جب ہم لوگ یہاں رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں کیوں نکاں جاتا ہے ؟ کہنے لگے بات یہ ہے کہ تم لوگ PAKISTAN BORDER کے بالکل قریب ہو۔اسلئے یہ سب کچھ ہے۔اس گفتگو کے بعد میں سارہ ہائی کو قادیان کے خونچکاں حالات بتائے گئے۔ہمیں سارہ بائی نے اس موقعہ پر مقامی ہندو سکھوں کو بھی جو باہر آئے ہوئے INDO -