تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 340 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 340

۳۳۹ سے زیادہ خوشی کا موجب ہوتا ہے گو ہارا یقین یہی ہے کہ جلد ہی قادیان ہمیں واپس مل بھائیگا لیکن فرض کرو جلد نہ ملے اور سو دو سو سال بھی لگ بھائیں تو پھر بھی کیا حرج ہے۔بعتنا عرصہ مومن کو زیادہ قربانی کے لئے بل بجائے مومن کو تو اتنا ہی خوش ہونا چاہیے نہ کہ غمگین۔۔پس یہ وقت رونے دھونے کا نہیں ہے بلکہ اپنی تہمتوں کو اور اپنے حوصلوں کو پہلے سے بہت زیادہ بلند کرنے کا وقت ہے۔ہمارے جوانوں کو بہت زیادہ جوان بن جانا چاہیے اور ہمارے بوڑھوں کو جو ان بن جانا چاہئیے اور اپنے اصل مقصد یعنی خدا تعالے کی محبت اور اس کے دین کی اشاعت کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دینا چاہیے کہ خدا کی محبت کروڑوں کروڑ قادیان سے بھی زیادہ قیمتی اور قابل قدر چیز ہے“ لے جماعت احمدیہ کے نظام مالیات کو فسادات کے مخلصین احمدیت کی طرف سے اخلاص قربانی دوران سخت دھکا لگ چکا تھا مگر خلصین جماعت کی روح کا مظاہرہ نے ان نازک ایام میں کس ذوق و شوق سے مالی تنہاد میں حصہ لیا ، اس کی بعض شاندار مثالیں حضرت سید نا لمصلح الموعود کی زبان مبارک سے ذیل میں بیان کی جاتی ہیں۔فرمایا :- - جالندھر کی ایک احمدی عورت میرے پاس آئی اور اس نے بتایا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے اور یہ کہ وہ بالکل برباد ہو گئے ہیں۔پھر اس نے دو زیور نکال کر بطور چندہ دے دیئے۔میں نے اسے کہا تم تولٹ کر آئی ہو، یہ چندہ تو ان لوگوں پر ہے جو یہاں تھے اور جو لوٹ مار سے محفوظ رہے۔وہ عورت یہ بھی کہ چکی تھی کہ اس نے حفاظت مرکز کا چندہ ادا کر دیا ہوا ہے اس نے کہا ئیں یہی دو زیور نکال کر لائی ہوں۔جب میں نے دیکھا کہ جماعت نازک دور سے گزر رہی ہے تو میں نے خیال کیا کہ میرا سارا زیور اور دوسری بجائیداد تو کفار نے لوٹ لی ہے کیا اس میں خدا تعالے کا کوئی حصہ نہیں میرے پاس یہی دو زیور ہیں جو میں بطورچندہ دیتی ہوں“ نے " الفضل " ، فتح ا دسمبر مش صفحه ۷ کالم ۳-۴ * له " الفصل" ۲۶ تبلیغ / فروری مش صفحه ۵ کالم ۳ ی یه