تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 339
۳۳۸ سلسلہ الہیہ کو سلسلہ البہیہ سمجھنا اور اس کی تعلیم پر عمل نہ کرنا بالکل لغو اور فضول ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات عذاب الہی کو بھڑ کانے کا موجب بن بجاتا ہے۔پس ہماری جماعت کو چاہیئے کہ وہ قرآن کریم کے پڑھنے اور پڑھانے کا اتنا رواج دے کہ ہماری جماعت میں کوئی ایک شخص بھی نہ رہے جسے قرآن نہ آتا ہو۔۔ابھی تک جماعت کے بعض لوگ اس سلسلے کو محض ایک سوسائٹی کی طرح سمجھتے ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ بیعت کرنے کے بعد اگر چندہ دے دیا تو اتنا ہی ان کے لئے کافی ہے۔۔۔۔حالانکہ۔۔۔جب تک ہم اپنے ساتھیوں اور اپنے دوستوں اور اپنے رشتہ داروں کو قرآن کریم کے پڑھانے اور اس پر عمل کرانے کی کوشش نہ کریں گے اس وقت تک ہمارا قدم اس اعلیٰ مقام تک نہیں پہنچ سکتا جس مقام تک پہنچنے کے نتیجہ میں انبیاء کی جماعتیں کامیاب ہوا کرتی ہیں" سے محبت قادیان کے بعدیہ کو اپنے قادیان کے چھین بھانے کا اثر طبعی طور پر جماعت احمدیہ کے ہر طبقہ پر نہایت گہرا ہوا۔اس صدمہ عظمی سے جسم نڈھال اور دل مقصد میں روک نہ بننے دو افسردہ اور پریشان تھے اور زندگی بالکل بے کیف ہو کے رہ گئی تھی۔ان اندوہناک حالات میں حضرت مصلح موعود نے اپنی جماعت کو اپنے اندر ہمت و جمرات پیدا کرنے کا وہی امید افزا پیغام دیا جو خلفاء ربانی کا ہمیشہ طغرہ امتیاز رہا ہے۔چنانچہ فرمایا :- قادیان چھوٹ جانے کا احساس بیشک ضروری چیز ہے۔لیکن اس احساس کے نتیجہ میں بجائے بے بہتی پیدا ہونے کے ہماری جرأت اور ہمارے حوصلہ میں زیادتی اور ترقی ہوئی پہچانے قادیان ظالمانہ طور پر ہم سے چھینا گیا ہے اور ظالم کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں پہلے سے بہت زیادہ ہمت اور طاقت اور حوصلے کی ضرورت ہے۔مُردے کبھی میدان فتح نہیں کیا کرتے۔میدان ہمیشہ زندہ اور بہادر لوگ جیتا کرتے ہیں۔پس آج تو ایسا وقت ہے کہ ہمارے بوڑھوں کو بھی جو ان بن جانا چاہیے کیونکہ کام جو اللہ تعالیٰ نے اب ہمارے سپرو کیا ہے وہ جوانوں والا ہے۔اگر ہمارے بوڑھے بھی کمر ہمت باندھ لیں تو یقیناً اللہ تعالے انہیں بھی کام کرنے کی طاقت دے دے گا اور مومن کے لئے دین کی راہ کام کرتا ہی سب ۱۳۲۶ " الفضل وفتح ا دسمبر اره اش صفحه ۱۶۵ ۶۱۹۴۷