تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 338
٣٣٧ اندر رکھتا ہے اور جو تمام مذاہب سے زیادہ مکمل اور حسین ہے ، وہ کیوں پھیل نہیں سکتا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام کی اشاعت کے لئے صحیح ذرائع سے کام لیا جائے۔اگر تم اسلام کی اشاعت صرف کالجوں اور مدرسوں کے ذریعہ کروگے۔تو یہ ایک مذہب نہیں بلکہ سوسائٹی ہوگی اور سوسائٹی میں صرف چند آدمی داخل ہوا کرتے ہیں ، ساری دُنیا داخل نہیں ہوا کرتی۔لیکن اگر تم اپنی تبلیغ کو مذہبی رنگ دے دو تو پھر جوق در جوق تمام دنیا کے لوگ اسلام میں داخل ہونے لگ جائیں گے۔پس اپنی تبلیغ کو مذہبی رنگ دو اور اسلام کی اشاعت کے لئے فقیرانہ رنگ اختیار کرو پھر دیکھو کہ تمہاری تبلیغ کس شرعت اور تیزی کے ساتھ دنیا میں پھیلتی چلی جاتی ہے۔اه اس سلسلہ میں 4 ارماہ فتح دسمبر میش کو مزید فرمایا :- " ہماری جماعت کو چاہیے کہ ہر فرد ہم میں سے اپنے نفس کو ٹوٹتا رہے اور اپنے دل میں دین کے ساتھ ایک محبت اور شغف پیدا کرنے کی کوشش کرے تاکہ دین کے کام اسے بوجھ محسوس نہ ہوں بلکہ وہ انہیں میں لذت اور خوشی محسوس کرے۔لوگ تو دین کو ایک بوجھ کہتے ہیں۔ہماری جماعت کے دوستوں کو اس سے بالکل الٹ دنیا کے کاموں کو ایک چٹی اور بوجھ سمجھنا چاہیے کیونکہ ہمارا اصل کام تو دین کی محبت اپنے دل میں پیدا کرتا اور دین کی اشاعت کرنا ہی ہے۔باقی دنیا کے کام ہرگز ہمارا مقصد نہیں ہیں۔محض زبانی باتیں نہیں کبھی فائدہ نہیں دے سکتیں۔ہمارے دماغ پر تو سوتے جاگتے اٹھتے بیٹھتے بس ایک ہی مقصد عادی ہونا چاہیئے۔اور وہ یہ کہ اسلام دنیا میں غالب آئے“ سے ۵۔حضور نے ۲۱ ماه نبوری / نومبر ۱۳۳۶ پرش کو خاص قرآن کریم مجھنے اور اس پرعمل کرنے کا فرمان طور پر اس موضوع پر خطبہ جمعہ دیا کہ اگر ماری جات قرآن کریم کے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرے تو سارے مصائب آپ ہی آپ ختم ہو جائیں۔چنانچہ فرمایا :- له " الفضل» ۳۰ اعضاء التوبه ر ش صفحه ۴ - کالم ۲-۳ : " الفشل " دار فتح / دسمبر س ش ص :