تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 329 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 329

۳۳۸ اور بٹالہ کی تحصیلوں کو انڈین یونین میں شامل کرنے کا منصوبہ اس سلسلہ کی بنیادی کڑی ہے چنانچہ فرمایا : یوں تو مسلمان عام طور پر یہ سمجھتےہیں کہ کشمیر کا معاملہ نہایت اہم ہے لیکن اس کی اہمیت کا پورا انکشاف انہیں حاصل نہیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ کشمیر کا مہندوستان سے الحاق شاید کوئی نیا مسئلہ ہے مگر یہ بات درست نہیں حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کے ہندوستان سے الحاق کی داغ بیل بہت عرصہ پہلے پڑ چکی تھی۔بونڈری کے فیصلہ سے عرصہ پہلے ہندوستان کی تقسیم کے سوال کا فیصلہ ہوتے ہی لارڈ مونٹ بیٹن کشمیر گئے اور ان کے سفر کا مقصد وحید یہی تھا، کہ وہ مہاراجہ کشمیر کو ہندوستان میں شامل ہونے کی تحریک کریں۔بحالات نے ثابت کر دیا ہے کہ لارڈ مونٹ بیٹن کلی طور پر سہندوؤں کی تائید میں رہے ہیں اور مسلمانوں کے مفاد کی انہوں نے کبھی بھی پروا نہیں کی۔اگر انہوں نے پاکستان کے بنانے کے حق میں رائے دی تو اس یقین کے ساتھ دی کہ تھوڑے ہی عرصہ میں پاکستان تباہ ہو کر پھر ہندوستان میں شامل ہو جائے گا اور ان کا سارا زور اسی بات کے لئے خرچ ہوتا رہا۔جب لارڈ مونٹ بیٹن کشمیر کے راجہ کو نصیحت کرنے کے لئے وہاں گئے اور اسی طرح کانگرس کے اور لیڈر بھی جیسے مسٹر گاندھی وہاں گئے تو لازمی بات ہے کہ ان بحثوں میں گورداسپور کے ضلع کا سوال بھی پیدا ہوا ہوگا پس جب لارڈ مونٹ بیٹن مہاراجہ کشمیر سے ملنے کے لئے گئے اور کانگریس نے مہاراجہ کشمیر پر زور دینا شروع کیا کہ وہ ہندوستان یونین کے ساتھ شامل ہوں تو اس کے معنی یہ تھے کہ ان لوگوں نے گورداسپور اور بٹالہ کو ہندوستان یونین میں شامل کرنے کا پہلے سے فیصلہ کیا ہوا تھا اور جب سر ریڈ کلف نے گورداسپور اور بٹالہ کو خلات انصاف اور خلاف عقل ہندوستان یونین میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا تو اس کے یہ معنے تھے کہ کشمیر کو مہندوستان یونین میں شامل کرنے کا فیصلہ پہلے سے ہو چکا تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان نتائج کو صحیح تسلیم کرنے کی صورت میں انگلستان کی دو بڑی ہستیوں پر خطرناک الزام عائد ہوتا ہے۔مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ مندرجہ بالا واقعات کی بناو پر اس نتیجہ کے سوا اور کوئی نتیجہ نکل ہی نہیں سکتا۔اگر یہ بات ممکن تھی اور اگر عقل اور انصاف کا تقاضا نہی تھا کہ گورداسپور اور بٹالہ کی تحصیلیں پاکستان میں شامل ہوں تو سر