تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 328
۳۲۷ که پاکستان کی سرحدیں کشمیر کے ہندوستان یونین میں مل جانے کی وجہ سے بہت غیر محفوظ ہو جاتی ہیں۔پیس ملک کے ہر اخبار ، ہر انجمن ، ہر سیاسی ادارے اور ہر ذمہ دار آدمی کو پاکستان حکومت پر متواتر زور دینا چاہیے کہ حیدر آباد کے فیصلہ سے پہلے پہلے کشمیر کا فیصلہ کہ وا لیا جائے ورنہ حیدر آباد کے ہندوستان یونین سے مل جانے کے بعد کوئی دلیل ہمارے پاس کشمیر کو اپنے ساتھ شامل کرنے کے لئے باقی نہیں رہے گی سوائے اس کے کہ کشمیر کے لوگ خود بغاوت کر کے آزادی حاصل کریں لیکن یہ کام بہت لمبا اور مشکل ہے اور اگر کشمیر گورنمنٹ ہندوستان یونین میں شامل ہوگئی تو پھر یہ کام خطرناک بھی ہو جائے گا کیونکہ ہندوستان یونین اس صورت میں اپنی فوجیں کشمیر میں بھیج دے گی اور کشمیر کو فتح کرنے کا صرف یہی ذریعہ ہو گا کہ پاکستان اور ہندوستان یونین آپس میں جنگ کریں“ لے فسوس اس بروقت انتباہ پر ابھی چند روز ہی گذرے تھے کہ ۲۷ اکتو بریسٹ سر کو لارڈ مونٹ بیٹن گورنر جنرل بھارت نے کشمیر کو انڈین یونین میں شامل کرنے کا اعلان کر دیا اور ہندوستانی فوجیں کشمیر میں داخل ہو گئیں۔اس پر قائد اعظم حمد علی جناح نے کشمیرمیں پاکستانی فوج روانہ کرنے کا فوری حکم صادر فرما دیا۔اور یہ حکم حکومت مغربی پاکستان کے ملٹری سیکرٹری کی معرفت ایکٹنگ پاکستان کمانڈر انچیف جنرل گریسی کے پاس بھی پہنچ گیا مگر جنرل گریسی نے جواب دیا کہ سپریم کمانڈر کی منظوری کے بغیر وہ خود کوئی ہدایت فوج کو جاری نہیں کر سکتے۔اور سپریم کمانڈر فیلڈ مارشل سرکلوڈ روکنالک نے قائد اعظم کے سامنے یہ موقف اختیا یہ کیا کہ اب جبکہ کشمیر ہندوستان سے الحاق کو چکا ہے انڈین یونین کو مہاراجہ کی درخواست پر کشمیر میں فوج داخل کرنے کا حق پہنچتا ہے۔کیمبل بجانسن اپنی کتاب عہد لارڈ مونٹ بیٹن میں اس واقعہ کا ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ قائد اعظم نے اوکنلک کی موجودگی میں اپنا آرڈر منسوخ کر دیا ہے۔مونٹ بیٹن کی الحاق کشمیر سے متعلق اہل پاکستان کے لئے کشمیر کا ہندوستان سے الحاق بظاہر ایک نیا مسئلہ تھا مگر سیدنا المصلح الموعود نے واضح فرمایا کہ لارڈ مونٹ بیٹن دیرینہ سازش کا انکشاف عرصہ سے کشمیر کو بھارت سے ملانے کی سازش کر رہے تھے اور بھی تھی ه الفضل" و در اضاء/ اکتوبر ۳۲۶ د مش صفحه ۱-۲ + +1904 سے عہد لارڈ مونٹ بیٹن مصنفہ کیمیل بان مترجمه یونس احمدایم اسے ناشر نفیس اکیڈیمی کراچی نمی شد بٹھا