تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 330 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 330

۳۲۹ ریڈ کلفت کے ایوارڈ سے پہلے لارڈ مونٹ بیٹن ، مسٹر گاندھی اور دوسرے کانگریسی (کا بہ کا مہاراجہ کشمیر کے پاس جانا اور انہیں ہندوستان یونین میں شامل ہو نے کی تحریک کرنا بالکل بے معنی ہو جاتا ہے۔کیا کوئی عقل مند آدمی اس بات کو تسلیم کر سکتا ہے کہ لارڈ مونٹ بیٹن مسٹر گاندھی اور دوسرے کانگریسی اکا بہ ایک ایسی بات منوانے کے لئے کشمیر گئے تھے جو تحصیل گورداسپور اور تحصیل بٹالہ میں مسلم اکثریت ہونے کی وجہ سے بالکل ناممکن تھی۔ان کا جانا بتاتا ہے کہ یہ بات پہلے سے طے پا چکی تھی نو اور تحصیل بٹالہ اور تحصیل گورداسپور باوجود مسلم اکثریت کے ہندوستان یونین میں شامل کی جائیں گی۔اور اگر یہ بات پہلے سے طے کی جا چکی تھی تو سر ریڈ کلف کا ایوارڈ محض ایک دکھاوا تھا۔ایک طے شدہ بات کے اعلان سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہ تھی۔بہر حال جیسا کہ ہم ثابت کر چکے ہیں کشمیر کو ہندوستان یونین میں ملا دینے کا فیصلہ برطانوی حکومت کے بعض نمائند ہے اور کانگریس مشترکہ طور پر پہلے کر چکے تھے۔اس کے بعد جو کچھ کیا گیا ہے وہ محض دکھاوا اور کھیل ہے۔مگر بات نہیں ختم نہیں ہو جاتی۔کشمیر کو ہندوستان یونین میں ملا دینے کا فیصلہ صرف کشمیر کی خطر نہیں کیا گیا بلکہ اس لئے کیا گیا ہے کہ صوبہ سرحد کے ساتھ ہندوستان یونین کا تعلق قائم ہو جائے صوبہ سرحد میں سرخپوش (RED SHIRTS) کے ذریعہ سے کانگرس کی تائید میں ایک جال پھیلایا گیا ہے۔عبد الغفار خاں کے ذریعہ سے لاکھوں روپیہ کا نگرس سرحد میں تقسیم کر رہی ہے اب تین طاقتیں پاکستان کے خلاف صوبہ سرحد میں کام کر رہی ہیں۔پاکستان کے شمال مغربی سرحدی صوبہ میں سرخپوشوں کی جماعت ، آزاد سرحد میں فقیر ایسی کے لوگ اور افغانستان میں وہ پارٹی جو افغانستان کی سرحدوں کو سندھ تک بڑھا دینے کی تائید میں آوازیں اُٹھا رہی ہے۔افغانستان کی فوجی طاقت ہر گز اتنی نہیں کہ وہ پاکستان میں داخل ہو کر سندھ کو فتح کر سکے۔یہ غریب اسے ہندوستان کے بعض آدمیوں نے دیا ہے اور سکیم یہ ہے کہ خدا نخواستہ اگر کشمیر کی آزادی کی تحریک کو کچل دیا جائے اور ہندوستان یونین کا اثر کشمیر کی آخری سرحدوں تک پہنچ