تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 327
۳۲۶ فیصلہ کو نظر انداز کر کے اس امر پر زور دینے لگے گی کہ جو والی ریاست کہے اسی کے مطابق فیصلہ ہونا چاہیئے۔اور کشمیر کا والی ریاست یقیناً ہندوستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کرے گا جب تک حیدر آباد مہندوستان یونین میں شامل نہیں ہوتا، ہندوستان یونین اس دلیل کو کبھی تسلیم نہیں کرنے گئی۔کیونکہ اگر وہ کشمیر کو ملانے کے لئے اس دلیل پر زور دے تو حیدرآباد اس کے ہاتھ سے جاتا ہے۔لیکن جب حیدر آباد اس کے ساتھ مل گیا تو پھر وہ اسی دلیل پر زور دے گا خصوصاً اس لئے کہ پاکستان کے بعض لیڈر یہ اعلان کر چکے ہیں کہ موجودہ قانون کے لحاظ سے فیصلہ کا حق والی ریاست کو ہے نہ کہ ملک کی اکثریت کو۔اس صورت میں کشمیر کو اپنے ساتھ ملانے کے لئے ہمارے پاس کوئی دلیل باقی نہیں رہے گی۔پس ہمارے نز دیک پیشتر اس کے کہ حیدر آباد کے فیصلہ کا اعلان ہو حکومت پاکستان کو اعلی سیاسی سطح پر ان دونوں ریاستوں کے متعلق ایک ہی وقت میں فیصلہ کرنے پر اصرار کرنا چاہئیے اور ہندوستانی یونین سے یہ منوا لینا چاہئیے کہ وہ دونوں طریق میں سے کیس کے مطابق فیصلہ چاہتا ہے کہ آیا والی ریاست کی مرضی کے مطابق یا آبادی کی کثرت رائے کے مطابق۔اگر والی ریاست کی مرضی کے مطابق فیصلہ ہو تو حیدر آباد اور جونا گڑھ کے متعلق ان کو اصرار کرنا چاہئیے کہ یہ پاکستان میں شامل ہوں اور اگر آبادی کی کثرت رائے کے مطابق فیصلہ ہو تو پھر کشمیر کے متعلق ان کو اصرار کرنا چاہیے کہ وہ پاکستان میں شامل ہو ہم جو کچھ اوپر کھے آئے ہیں اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستان کا فائدہ اسی میں ہے کہ کشمیر اس کے ساتھ شامل ہو جیدر آباد کی حفاظت کہ فی اس کے لئے مشکل ہے۔اور پھر کسی ایسی حکومت کو دیر تک قابو میں نہیں رکھا جا سکتا جس کی آبادی کی اکثریت ایسے اتحاد کے مخالف ہو۔تیسرے حیدر آبا د چاروں طرف سے ہندوستان یونین میں گھرا ہوا ہے۔اس کے بر خلاف کشمیر کی اکثر آبادی مسلمان ہے کشمیر کا لمبا ساحل پاکستان سے ملتا ہے کشمیر کی معدنی اور نباتاتی دولت ان اشیاء پرمشتمل ہے جن کی پاکستان کو اپنی زندگی کے لئے اشد ضرورت ہے اور کشمیر کا ایک ساحل پاکستان کو چین اور روس کی سرحدوں سے ملا دیتا ہے۔یہ فوائد اتنے عظیم الشان ہیں کہ ان کو کسی صورت میں بھی چھوڑنا درست نہیں۔ایک بات یہ بھی ہے