تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 290
۲۸۸ تھے جھکی ہوئی شاخوں کو چھوٹے گی۔ان لوگوں کی تالیف قلوب کے لئے تھوڑی دیرہ اور وہاں گفتگو فرمائی اور پھر سرگودھا کی طرف سفر شروع کیا۔موٹر میں بیٹھے کرانہ پہاڑیوں کے دامن میں تو کھلا میدان ہے اس کا بھائزہ لیا۔سرگودھا پہنچ کر محترم چو ہدری عزیز احمد صاحب سب حج کی کوکھی پر جو اُن دنوں وہاں تعینات تھے دوپہر کا کھانا تمام ہمرا ہی احباب سمیت تناول فرمایا۔یہ کھانا حضرت نواب چوہدری محمد دین صاحب پکوا کر اپنے ہمراہ موٹر میں لے گئے تھے اس کے بعد نماز ظہر و عصر جمع کر کے پڑھائیں اور بعد نماز جلدی لاہور کو روانہ ہو کہ قریباً شام کے وقت واپس لاہور پہنچ گئے “ سے ترسية بالمصلح الموعود کی زبان مبارک حضرت ام المومنین این داسي الثاني الصلح الموعود نے ار تبوک استمبر مہش کو اپنی زبان مبارک سے سے اس تاریخی سفر کے حالات اس تاریخی سفر کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا۔ہم سات آٹھ مہینے سے کوشش کر رہے تھے کہ ایک جگہ لی جائے جہاں قادیان کی اُجڑی ہوئی آبادی کو بسایا جائے۔یہ تجویز ستمبر سنہ میں ہی کر لی گئی تھی اور اس خراب کی بناء پر جو میں نے ماشا ء میں دیکھی تھی کہ میں ایک جگہ کی تلاش میں ہوں جہاں جماعت کو پھر جمع کیا جائے اور منظم کیا جائے ہم نے یہاں پہنچتے ہی ضلع شیخو پورہ میں کوشش کی۔پہلے مہاری یہ تجویز تھی کہ ننکانہ صاحب کے پاس کوئی جگہ لے لی جائے تا سکھوں کو یہ احساس رہے کہ اگر انہوں نے قادیان پر جو احمدیوں کا مرکز ہے حملہ کیا تو احمد می بھی ننکانہ صاحب پر حملہ کر سکتے ہیں۔اس خیال کے ماتحت میں نے قادیان سے آتے ہی آٹھ نو دن کے بعد بعض دوستوں کو ہدایات دے کر ضلع شیخو پورہ بھیجوا دیا تھا۔وہاں سہندوؤں کی چھوڑی ہوئی زمیندا کے متعلق ان کے ایجنٹوں سے بات چیت بھی کر لی گئی تھی اور بعض لوگ زمین دینے پر رضا مند بھی ہو گئے تھے۔لیکن جب اس کا گورنمنٹ کے افسران سے ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا گورنمنٹ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ غیر مسلموں کی چھوڑی ہوئی جائداد فروخت نہ کی جائے۔ہم نے انہیں کہا ہم بھی ریفیوجی ہیں اس لئے کسی غیر کے پاس زمین فروخت ه "الفضل راحسان /جون ۱۳۴۳ بیش صفحه ۵ :