تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 291 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 291

۲۸۹ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔مگر انہوں نے جواب دیا کہ چونکہ ایسا کرنے میں غلط نہیں ہو سکتی ہے اس لئے یہ زمین قیمتا نہیں دی جا سکتی۔اسی دوران میں بعضی احمدیوں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ سکھوں میں ایک طبقہ حد سے زیادہ جوش والا ہے اس لئے بجائے اس کے کہ اس تجوینہ سے فائدہ ہو۔ایسے لوگ زیادہ شرارت پر آمادہ ہو جائیں۔ایک دوست نے تھ یہ بھی کہا۔آپ نے خواب میں جو جگہ دیکھی تھی وہ جگہ تو پہاڑیوں کے بیچ میں تھی اور یہ جگہ پہاڑیوں کے بیچ میں نہیں ہے۔میں نے ایک جگہ دکھی ہے جو آپ کے خواب کے زیادہ مطابقی ہے بچنا نچہ پارٹی تیار کی گئی اور میں بھی اس کے ساتھ موٹر میں سوار ہو کر گیا۔وہ جگہ دیکھی واقعہ میں وہ جگہ ایسی ہی تھی۔صرف فرق یہ تھا کہ میں نے خواب میں جو جگہ دیکھی تھی اس میں سبزہ تھا اور یہاں سبزہ کی ایک پتی بھی نہ تھی۔یہ جگہ اونچی ہے اور شہر کا پانی اس تک نہیں پہنچ سکتا۔میں نے ایک گاؤں کے زمیندار سے پوچھا کہ آیا کسی وقت سیلاب کا پانی اس جگہ تک پہنچ جاتا ہے۔اس نے کہا، نہیں اور ایک درخت کی طرف اشارہ کرتے اء نے ہمیں کے نیچے ہم کھڑے تھے کہا کہ اگر پانی اس درخت کی چوٹی تک پہنچ جائے تب اس جگہ تک پانی پہنچ سکتا ہے۔اب حال میں جو سیلاب آیا ہے اس کا پانی بھی اس میگہ سے نیچے ہی رہا ہے اور اس جگہ تک نہیں پہنچ سکا۔لیکن ہم نے سمجھا کہ اگر کوشش کی جائے تو شاید یہاں بھی سبزہ ہو سکتا ہے" سے پٹی کمشنر صاحت مضلع جھنگ کے نام یہ جگہ ایک شخصیت سے فرق کے ساتھ ہو کردہ نور کی ان مسال چونکہ قبیل کی خواب سے بالکل ملتی جلتی تھی اس لئے حضور کی ہدایت خریدارانی کیلئے درخواست ناظر اعلی صدر همین امر یہ پاکستان کی طرف سے ڈیٹی شہر ے یہ رائے سید ظہور احمد شاہ صاحب اند این دلیری ریسه ی انسٹی لیو با تند و سابق مبلغ بھی کی تھی جس کا اظہار انہوں نے اپنے مکتوب (محرره ۸ اکتو بر شام میں کیا حضرت اقدس نے اس خط کے جواب میں فرمایا " ننکانہ کا خیال چھوڑ دیا ہے د اکتوبر کیا اس خیال سے تو آپ نے لکھا ہے" اس خط پر دفتر پرائیویٹ سکوٹری رتن باغ لاہور کی طرف سے روانگی کی تاریخ را کریا۔۱۲ اکتوبر ۱۴ مهر درج ہے کہ حضرت الصلح الموعود نے یہ خواب فتح ادیمیر تار میش کے خطبہ جمعہ (مطبوعه الفضل فتح اردسمبر) میں بیان فرمائی تھی جس کی تفصیل "تاریخ احمدیت "مجلہ احمدیت جلد نہم (صفحہ ۲۷۳ تا ۲۷۶) میں گذر چکی ہے۔الفضل ۲۸ تبوک استمبر رامش صفحه ۵ * + ،