تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 281 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 281

صوبہ سندھ ۲۷۹ کراچی میں پنڈت شنو ناتھ شاستری اور ان کا خاندان تھا جسے مکرم فتح محمد صاحب شرما نے بذریعہ ہوائی جہاز ہندستان بھجوانے کا بندوبست کیا اور ان کی نقدی اور زیورات بھی بحفاظت پہنچا دیئے حضرت مصلح موعود کی مخلصانہ اپیل یا آخر یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ فسادات کے ایام میں حضرت مصلح موعود نے مسٹر گاندھی سے اپیل کی کہ وہ قیام امن کے گاندھی جی سے اور اُن کا جواب لئے کوشش کریں۔نیز پیشکش کی کہ اگر وہ مظلومین کی مدد کرنے کے لئے تیار ہوں تو جماعت ان کی پوری پوری اعانت کرنے کا وعدہ کرتی ہے۔حضور کا مکتوب اور گاندھی جی کے جواب کا متن درج ذیل ہے :- " مجھے یقین ہے کہ آپ پر ان اندوہناک واقعات کا اثر ہو گا جو ہندوستان کے مختلف علاقوں میں رونما ہو رہے ہیں۔میری اور آپ کی اور ہر روحانی شخص کی ڈیوٹی ہے کہ ان ننگ انسانیت واقعات کو روکا جائے۔یہ کہنا کہ اگر میں نے جُرم کیا ہے تو آپ نے بھی تو ایسا کیا ہے درست نہیں اور امن پیدا نہیں کر سکتا۔سچائی اور انصاف ایک مقدس کام ہے سیاسی آدمی کہ سکتے ہیں کہ اگر تم ایسا کروگے تو میں بھی ایسا ہی کروں گا لیکن اخلاقی اور مذہبی رہنماؤں کا یہ حال نہیں ہو سکتا۔میری جماعت مغربی پنجاب میں اپنا فرض ادا کر رہی ہے اور ہم اس ظلم کو روکنے کی پوری کوشش کرینگے س کی ہمیں اطلاع مل بھائے۔میں سینکڑوں ایسی مثالیں پیش کر سکتا ہوں جہاں کہ میرے متبعین نے ہندوؤں اور سکھوں کی بے لوث خدمت کی ہے (ضلع گجرات کے ایک آریہ سماجی کا ایک مکتوب بھی اس اپیل کے ساتھ شامل کیا گیا) میں درخواست کرتا ہوں کہ (مشرقی) پنجاب میں قتل و غارت کی روک تھام کریں۔آپ دہلی میں اچھا کام کر رہے ہیں لیکن یہ سیاسی کام ہے۔وہلی انڈین یونین کا مرکز ہے۔اور ہر شورش کو وہاں کے غیر ملکی نمائندے دیکھتے ہیں۔میری رائے میں پنجاب میں چونکہ سینکڑوں گنا زیادہ خون بہا دیا گیا ہے اس لئے توجہ کا محتاج ہے۔اگر آپ مغربی پنجاب میں آئیں تو میری جماعت آپ کی امداد کرے گی۔میری ذاتی رائے ہے کہ چونکہ آپ کا ہندوؤں سکھوں پر زیادہ اثر ہے اسلئے ان کا مشرقی پنجاب میں ہی شروع کریں اور مغربی