تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 280
۲۷ بیکانیر کی حدود میں داخل ہو گیا۔d -۴- چک 10 بہاولپور کے سب غیر کم ہری محفوظ رہے جو مقامی احمدیوں کے حس انتظام اور ادی کا نتیجہ تھا جماعت احمدیہ کی انسانیت پر ور مساعی صوبہ پنجاب کے علاوہ صوبہ سرحد میں بھی بھاری تھیں مثلاً سعد اللہ خاں صاحب ترنگ زئی ضلع پشاور نے اطلاع دی کہ ترنگ زئی میں سیٹھ فقیر چند کے سوا باقی سند و سکھ فسادات کی خبر سن کر بھاگ گئے جس پر ہم نے سیٹھ مذکور سے درخواست کی کہ وہ ہم سے کرایہ لے کمر انہیں واپس لے آئیں۔ہم ان کی حفاظت کریں گے۔اس نے کرایہ تو نہ لیا البتہ سب کو ان کے اہل وعیال سمیت واپس لے آیا بچنا نچہ ہم نے ایک عرصہ تک انہیں اپنے یہاں پناہ دی۔موضع سر کی میں ہمارے چچا عادل شاہ نے مہر سنگھ وغیرہ صاحبان کو اپنے گھر میں رکھا۔اتمان زئی میں بعض غیر مسلموں کو حفاظت کی پیشکش کی گئی جو انہوں نے قبول نہ کی بیچارسدہ میں ایک ہند و تکامل کی خطبات کی گئی۔ترنگ زئی میں ایک ہندو نیوز ایجنٹ کی غفلہ سے مدد کی گئی۔وغیرہ۔صوبہ بلو بستان صوبہ بلوچستان میں احمدیوں نے اپنے امام کی آواز پر کس طرح لبیک کہی۔اس کی ایک مثال ملاحظہ ہو ان ایام میں ایک احمدی مکرم محمد اقبال صاحب کوئٹہ کی دوکان کو آگ لگا دی گئی تھی اور ۲۰ ہزار روپیہ کا نقصان ہو گیا تھا مگر انہوں نے اس مالی نقصان کی چنداں پروانہ کی اور اپنے تئیں خطرہ میں ڈال کر بھینٹا چاریہ صاحب مینجر کلکتہ نیشنل بنک کوئٹہ کو تین یوم تک پناہ دی اور حفاظت کے ساتھ ہندوستان کی طرف روانہ کیا۔ه بروایت صادق علی صاحب چک 2 بہاولپور