تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 282
۲۸۰ پنجاب میں نہیں کام کرنے دیں لیکن اگر آپ کے خیال میں پہلے مسلمانوں کو خوش کرنا چاہیے۔تب بھی آپ کی مد کریں گے اور اپنا معاملہ خدا پر چھوڑیں گے۔اگر ہندوستانی ہوش میں آجائیں تو ہم اپنا کام اچھی طرح کر سکتے ہیں۔میں کسی پر الزام نہیں دیتا۔جو کچھ ہوا واقعات کی رو میں ہوا۔اگر دریاؤں کے راہ بدل سکتے ہیں تو قدموں کا راستہ بھی بدل سکتا ہے۔یہ ہمارا فرض ہے کہ اس کے لئے راستہ کھلا رہنے دیں“ ( حموده ۸ در اکتوبر ۱۹۹) گاندھی جی نے اس محبت بھرے مکتوب کا حسب ذیل جواب دیا :- از میں ہاؤس نئی دہلی 2-11-46 مرز اضاہ آپ کا خالا ، آپ کہتے ہیں وہ ٹھیک ہے کہ جو خون خرابی ملک میں چل رہی ہے ،مٹنی چاہئیے۔یہ بھی آپ ٹھیک فرماتے ہیں کہ فرض ادا کرنے میں امن کی بات چھوٹ جاتی ہے۔جو کام میں مغربی پنجاب میں کر سکتا ہوں وہی یہاں کو رہا ہوں۔اس لئے میرا منتر ہے کرنا یا مرنا۔اگر گر سکا تب ہی آگے بڑھنے کی بات اُٹھ سکتی ہے۔یہ تو ہوئی آج کی بات ، کل کی خدا ہی جانتا ہے۔آپ کا م گ گاندھی " اگرچه تحریک جدید کے فنانشل سکرٹری چو ہدر می برکت علیخاں تحریک جدید صدر انجمن احمدیہ پاکستان صاحب کی زیر نگرانی تحریک جدید کے چندوں کی وصولی کا کا قیام اور رجسٹریشن ابتداء ہی سے انتظام ہو چکا تھا اور تحریک تجدید انجمن احمدی کی بنیاد بھی رکھ دی تھی اور ممبران بھی مقرر ہو چکے تھے۔مگر ضرورت تھی کہ پاکستان میں تحریک جدید کا اداره با قاعده صورت میں قائم کر دیا بجائے چنانچہ اس غرض کے لئے حضرت سید نا الصلح الموعود نے وسط ماه نبوت نومبر ۳۳ میش میں مولوی عبد الرحمن صاحب اور انچارج تحریک جدید کو قادیان سے بلوایا۔انہوں اے جناب مولوی صاحب موصوف کا بیان ہے کہ " در نومبر کو خاکسر کو اطلاع ملی کہ خاکسار قادیان سے فوراوں ہور پہنچے تاکہ تحریک جدید کے دفاتر کو میٹ کرکے کام شروع ہو چنانچہ میں حضور کے ارشاد پران پانچ رکوں کے قافل میں لاہور پہنچا جو کوم چودھری معرظفراللہ خان صاحب کی کوٹھی واقع دارالانوار سے آپ کا سامان لانے کے لئے حکومت پاکستان نے بھجوائے تھے