تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 278 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 278

۲۷۶ ذریعہ سے نہر سے نکالی گئی اور بابو فقیراللہ صاحب گنہار نہروان ضلع ملتان کے پاس پہنچی جبکہ وہ سر اور پاؤں سے برہنہ تھی۔بابو صاحب نے اس کو کپڑے پہنائے اور تین دن پناہ میں رکھ کر اور کچھ نقدی دے کر ہندوستان کی طرف روانہ کر دیا۔۲- پٹری ضلع منگمری (ساہیوال) کے امیر جماعت مکرم نورالدین صاحب مختلف دیہات کے غیر مسلموں کو بحفاظت بھارت کی سرحد تک لے گئے۔غلام احمد صاحب ڈسپنسر مجرہ ضلع منٹگمری (ساہیوال) کی رپورٹ ہے کہ باوجودیکہ ہندوؤں نے ہمارے ساتھ بُرا سلوک کیا مگر ہم نے ۲۷ غیر مسلموں کو ہسپتال میں رکھا اور محفوظ طور پر کیمپ میں پہنچایا۔میری اہلیہ اپنے ہاتھ سے ان لوگوں کو کھانا پکا کر دیتی رہی۔چوہدری غلام قادر صاحب امیر جماعت اوکاڑہ نے اپنے ایک بھتیجے کے ساتھ بعض غیر مسلموں کی حفاظت کی جس پر بعض لوگ ان پر حملہ کرنے کے لئے تیار ہو گئے بلکہ خود ہندو ملڑی نے یہ خیال کر کے کہ وہ حملہ آوروں کی پشت پناہی کرتے ہیں آپ کے بھتیجے کو گولی سے اُڑا دینے کا فیصلہ کر لیا۔آخر بڑی مشکل سے اصل حقیقت کھلی اور یہ معاملہ رفع دفع ہوا۔- فتح محمد صاحب ہیڈ ماسٹر مڈل سکول 1/2۔8 نے بعض ہندوؤں کو بحفاظت کیمپ میں پہنچایا۔ضلع ملتان - محمد نواب خان صاحب سیال لودھراں ضلع ملتان نے بستی وریام کملانہ ضلع جھنگ کے ایک ہندو کو قریباً ایک ماہ تک اور باغ ضلع جھنگ کے ایک سکھ کو قریباً دو ماہ تک پناہ دی۔راتوں کو پہرہ دیا۔اور یا وجود مخالفت کے ان کی حفاظت اور کھانے پینے کا بندوبست کیا۔ملک حسن خان صاحب پیشنز چھینی تا حمد ربان نے ایک سکھ رسالدار نیشنر کی دو لڑکیوں کو حملہ آوروں سے بچا کر ملتان میں ملٹری پولیس کے سپرد کیا۔اس کے علاوہ کئی سکھوں کی بمان بچائی۔غلام حسین خان صاحب اسسٹنٹ ریکارڈ کلرک آر ایم ایس ملتان نے ایک ہندو کو مع اس کے اہل و عیال پتا بھی دی اور مالی امداد بھی کی۔ایک اور ہندو کو اس کے اکلوتے بچہ سمیت جہاز پر سوالہ کرایا۔م عبد الرحمن صاحب چک ۳۲ دنیا پور ضلع ملتان نے دنیا پور کے دو ہندوؤں کو حملہ آوروں سے بچا کہ