تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 279
۲۷۷ اپنے پاس رکھا۔راتوں کو پہرے دیتے اور انہیں فوجی گارد کے ذریعہ ہند و کیمپ تک پہنچایا۔ضلع ڈیرہ غازیخاں میاں دوست محمد صاحب حجانہ ڈیرہ غازیخاں نے متعدد ہندوؤں کو بچایا۔آپ نے اغوا شدہ مستورات بھی برآمد کر کے حوالہ ورثاء کیں۔ایک بی غیرمسلم ڈیپٹی انسپکٹر تعلیم کو ڈیرہ غازیخاں سے ملتان پہنچایا۔اللہ بخش صاحب ہمدانی نے موضع ہمدانی کے تمام غیر مسلموں کو دو دن تک اپنے گھر میں رکھا اور کھانا کھلایا۔ان لوگوں پر بلوائیوں نے حملہ کر کے دو کو شدید زخمی کر دیا تھا۔ان کی مرہم پٹی کرائی گئی اور ہند ملٹری کی حفاظت میں ان کو ٹرک پر سوار کرایا گیا۔نے ریاست بہاولپور ریاست بہاولپور کے احمدیوں نے بھی غیر مسلموں کی حفاظت و اعانت کا کوئی موقعہ ہاتھ سے بجانے نہیں دیا۔مثلاً مشرقی پنجاب سے مہاجرین کی آمد پر ریاست میں غیر مسلموں کے خلاف زبر دست اشتعال پیدا ہو گیا تھا۔ان حالات میں ان کے تحفظ کا ہر اقدام گویا اپنے تئیں موت کو دعوت دینا تھا۔تاہم پیک پاپا کے ریاستی احمد یوانی اس صورت حال کے باوجود بعض غیر مسلموں کی حفاظت کی۔مگر افسوس ! مشرقی پنجاب پہنچنے والے بعض ہندوؤں نے الٹا ان کے خلاف رپورٹ درج کرادی کہ ہماری عورتوں کو روکا ہوا ہے بھای نکر احمدی ان کی حفاظت کر رہے تھے۔انہیں تھانہ میں بلا کہ ڈانٹ پلائی گئی۔مگر جب مشرقی پنجاب پہنچتے والے غیرمسلموں کے شکریہ کے خطوط دکھائے گئے تو انہیں بری کر دیا۔غیر مسلموں کی حفاظت کے دوران ایک دوست مہاجرین کے ہاتھوں شہید بھی کر دیئے گئے لیکن غیر مسلموں کو کوئی گزند نہیں پہنچنے دیات -۲- غلام نبی صاحب اہل کار چشتیاں منڈی بہاولپور سٹیٹ نے چشتیاں منڈی کے بعض ہندوؤں کا رات کے وقت پہرہ دیا اور اپنے آپ کو خطرہ میں ڈال کر مع ان کی کثیر نقدی کے سرحد پر چھوڑ آئے۔اسی قصبہ کا ایک ہندو ان کے گھر میں بھی پناہ گزین ہوا جسے انہوں نے کچھ امداد دے کر ہندوستان بھجوا دیا۔بابو محمد بخش صاحب سگنیلو بنگلہ قاضی والہ ریاست بہاولپور چک ۴-۹ راجیاں نے پانچ ہزار کے ایک غیر مسلم قافلہ کا رات بھر پہرہ دیا۔صبح کو جب آپ اُسے سرحد تک چھوڑ نے بھارہ ہے تھے تو ایک شخص نے حملہ کرنا چاہا جو بعض لوگوں نے روک دیا اور آپ بھی گئے اور قافلہ بھی صحیح سلامت ریاست اه بروایت فضل محمد صاحب چک را