تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 260 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 260

۲۵۸ بیٹھے ہوئے تھے چنانچہ قافلہ والوں سے کہا گیا کہ جو کچھ سامان ان کے پاس ہے وہ زمین پر رکھ دیا جائے۔اس کے بعد نوجوان عورتوں کو بھگا لے بھایا گیا۔معمر عورتوں اور مردوں کو قتل کیا گیا۔اس کے بعد جو مصیبت زدہ بچ گئے ان کو پاکستان کی طرف دھکیل دیا گیا ہے بر صغیر پاک و ہند کے مشہور و نامور ادیب خاک و خون میں حالات قادیان کا مختصر ذکر " ناول نویس جناب نسیم حجازی نے اپنی کتاب خاک و خون کے صفحہ ۵۸۲-۵۸۳ پی کو الف قادیان پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہوئے تحریرہ کیا کہ بٹالہ ضلع گورداسپور کا سب سے بڑا شہر تھا۔ضلع کے حکام اور بلوائیوں کو خطرہ تھا کہ یہ شہر کہیں آس پاس کی بستیوں کے مسلمانوں کا دفاعی مورچہ نہ بن جائے۔چنانچہ باؤنڈری کمیشن کے اعلان کے ساتھ ہی پولیس نے شہر کو مسلمانوں سے خالی کروانے کی مہم شروع کر دی تھی۔قرب و جوار کے دیہات کے مسلمان شہر کا رخ کر رہے تھے اور شہر کے مسلمان سنگینوں کے پہرے میں اپنا گھر بار خالی کر کے کیمپوں میں پناہ لے رہے تھے۔اس کے بعد کچھ لوگوں کو مسلمان سپاہی فوجی لڑکوں اور لاریوں میں بٹھا کہ امرتسر کے راستے لاہور کی طرف لے گئے اور باقی ہزاروں کی تعداد میں ڈیرہ بابا نانک کا راستہ اختیار کرنے لگے۔اس کے بعد قادیان حکومت ، فوج اور بلوائیوں کی توجہ کا مرکز بنا۔احمدیہ جماعت کے لیڈروں کو ہندوستان کی حکومت یہ اطمینان دل چکی تھی کہ انہیں کوئی خطرہ نہیں۔بٹالہ کی صورت حال سے پریشان ہو کہ قادیان کے اردگرد کچھ سات میں کے دائرے میں مسلم آبادی اپنے گھر بار خالی کر کے وہاں جمع ہو گئی۔اس کے بعد آگ کا دائرہ قادیان کے گرد تنگ ہونے لگا اور اس اس قسم کی خبریں آنے لگیں۔آج احمدیہ جماعت کا وفد ہندوستان کے فلاں لیڈر سے ملا ہے اور انہوں نے یقین دلایا ہے کہ قادیان کی حفاظت کی جائے گی " " آج قادیان کے مضافات پر حملے ہوئے ، اتنے مارے گئے ، اتنی عورتیں اغوا کر لی گئیں۔مہندوستان کے فلاں وزیمہ نے بیان دیا ہے کہ قادیان کو کوئی خطرہ نہیں" آج قادیان میں کرفیو آرڈر لگا دیا گیا ہے " " قادیان کے مسلمانوں کی تلاشیاں لی به له کاروان سخت باک به نام شهر اداره رابطه قرآنی دفاتر محاسبات دفاع پاکستان راولپنڈی مارچ اردو