تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 259 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 259

۲۵۷ اس پر بھی لوگوں نے کوئی گھبراہٹ محسوس نہ کی اور اپنے " مرکز " کو چھوڑنے پر رضامند نہ ہوئے تو مقامی پولیس نے دیہاتی سکھوں میں اسلحہ تقسیم کیا اور ان کو مجبور کیا کہ قادیان پر جا کر چاروں طرف سے حملہ کرو ورنہ تم کو مار دیا جائے گا۔یہ لوگ چار و ناچار حملہ آور ہوئے ان میں بہت سے آدمی فوجی تربیت یافتہ بھی تھے جن کو سفید کپڑوں میں منیوس رکھا گیا تھا۔یہ ہی اس تجھہ کی قیادت کر رہے تھے۔قادیان کی جنوبی سمیت سے ان لوگوں نے حملہ کر دیا۔دیہات کے لوگ چونکہ اس قسم کے حملہ سے واقف نہ تھے۔اس لئے انہوں نے خوفزدہ ہو کہ ادھر اُدھر بکھرنا شروع کر دیا۔جو نوجوان با قاعدہ مقابلے کے لئے نکلے انہوں نے پورے آلات حرب سے ان کا مقابلہ کیا۔لیکن حکومت کا مقابلہ کوئی آسان کام نہیں اس لئے جب حکومت کے کارندے درمیان میں آگئے اور ہمارے مسلمان بھائیوں کو مجبور کر دیا کہ دو خود حفاظتی تدابیر سے دست کشی کر لیں تو مجبوراً تاب مقابلہ کے با وجو ہاتھ روکنا پڑا جب جوابی کارروائی رُک گئی تو شیطانوں کے لشکر آبادی میں گھس آئے۔انہوں نے کوشش کی کہ ہماری خواتین پر دست درازی کریں۔ہم نے خواتین بچوں اور ضعیفوں کو مقامی تعلیم الاسلام کالج کے بورڈنگ ہاوس میں لا کر جمع کر دیا اور باہر خود پہرہ دیتے رہے کثیر تعداد جمع ہو بھانے کے باعث بورڈنگ جو ایک وسیع جگہ تھی تنگ ہو رہی تھی سب سے بڑی مصیبت یہ تھی کہ راشن لوگوں کے پاس نہیں رہا تھا۔اگر کسی کے پاس گندم تھی تو وہ کچی تو نہ چبائی جا سکتی تھی چنانچہ قہر دروایش بر جان درویش بورڈنگ ہاؤس کے فرنیچر کو جیل ملا کر گندم کو ابال اُبال کر گزارہ کیا گیا۔چونکہ ابھی تک محصورین کو پاکستان بھجوانے کا انتظام نہ ہو سکا تھا۔اس لئے مصیبت دس بارہ روز تک کھیلنا پڑی۔اس دوران میں حکومت کا آرڈر ہوا کہ جو لوگ پاکستان بھانا چاہیں وہ تیار رہیں۔اس حکم میں جو چیز در پر وہ تھی وہ سمجھدار لوگوں سے پوشیدہ نہ تھی لیکن مضافات کے پناہ گیر مسلمان اس فریب میں آگئے اور تمہیں پینتیس ہزار افراد پرمشتمل ایک قافلہ ہندوستانی ملٹری کی حفاظت میں چیل کھڑا ہوا۔پانچ کچھ میل ادھر تک یہ ملٹری اس قافلہ کے ساتھ گئی لیکن بعد میں انہوں نے قافلہ سے کہہ دیا کہ اب تم خود ہی بھائی۔چنانچہ قافلہ بے یار مدد گارہ آگے بڑھا لیکن آگے خونخوار بھیڑیئے گھات میں