تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 241
۲۳۹ کے لئے آخری دم تک وہیں رہے۔بخلیفہ صاحب کی یہ ہمت قابل داد ضرور ہے۔لیکن حالات سے بے نیاز ہو کر کام کرنا اور ہزار ہا نہتے لوگوں کو اتنی بڑی آزمائش میں ڈالنا مناسب نہیں۔قادیان میں کرفیو لگا ہوا ہے وہاں محلوں میں تمام لوگوں کی سختی سے تلاشی لی جا رہی ہے۔بیرونی محلہ جات پر حملے ہو رہے ہیں۔نزدیک کے دیہات پر سکھوں کا قبضہ ہو چکا ہے اور کچھ عجب نہیں قادیان میں بھی قتل عام شروع ہو جائے۔اس وقت افرا تفری کے عالم میں اگر لوگ وہاں سے نکلے تو پھر اس قدر نفوس موت کے گھاٹ اُتر جائیں گے جن کا اندازہ لگانا مشکل ہوگا اور مشرقی پنجاب کی پراپیگنڈا مشینری اسے معمولی سا حادثہ قرار دے کر دنیا کی نظروں میں ڈھول ڈالنے میں کامیاب ہو جائے گی۔یہ محض خام خیالی ہے کہ وہاں بہت دیر تک مقابلہ میں جسے رہنے سے اس بات کو اس قدر شہرت ملیگی کہ ہندوستانی حکومت مرعوب ہو کر قادیان کو تباہ کرنے سے اپنا ہا تھ کھینچ لے گی۔اس سلسلہ میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہاں ابھی تک ہزاروں خواتین اور بچے موجود ہیں جن کو وہاں سے نکالا نہیں جا سکا۔کیا ان سب کو اس لئے موت کے منہ میں چھوڑ دیا بھائے کہ خلیفہ صاحب قادیان سے ہجرت نہیں کرنا چاہتے۔یہ معاملہ ایسا نہیں کہ ایک شخص کی مرضی پر اسے چھوڑ دیا جائے۔پاکستان گورنمنٹ کو چاہیے کہ سپیشل ٹرینیں پھلا کر جس قدر لوگوں کو وہاں سے نکالا جا سکتا ہے نکال لے اور ہم خلیفہ صاحب قادیان سے بھی یہی گزارش کریں گے کہ نہتے لوگوں کو اس کس مپرسی کے عالم میں چھوڑ دینا ٹھیک نہیں۔بلکہ وہ ان لوگوں کو یہاں لا کر ہر طرح سے مسلح اور منظم کریں تو جہاں ایک طرف یہ اقدام پاکستان حکومت کو تقویت کا موجب ہوگا وہاں ہزار ہا بے گناہ لوگوں کو موت کے پنجے سے بھی نکال لائے گا۔(شیخ مح طفیل ایم۔اے ) و - اس اخبار کا ایک اور نوٹ ملاحظہ ہو :- لمیں تھوڑی باتیں لکھنے کا وقت نہیں۔۔۔۔۔اس وقت ہم کم و بیش ۵۰ ہزارہ افراد قادیان میں پناہ لئے بیٹھے ہیں ہمیں احمدیوں کی طرف سے زندہ رہنے کے لئے کھانا مل رہا ہے بعض کو مکان بھی مل چکے ہیں۔مگر اس قصبہ میں اتنی گنجائش کہاں ؟ ہزاروں آسمان کی لے احسان " ۲۵ ستمبر 9ء میں یہ مضمون شائع ہوا ہے +