تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 242 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 242

۲۴۰ چھت کے نیچے زمینی فرش پر پڑے ہیں جنہیں دھوپ بھی کھانا پڑتی ہے اور بارش میں بھی بھیگنا پڑتا ہے۔پھر بھی ہم ہوں توں کر کے زندگی کے دن گزار رہے ہیں مگر جو تنگی اب ملٹری اور پولیس کی طرف سے دی بھارہی ہے اور بوصیتیں اب نازل ہو رہی ہیں ان کا کیا علاج۔پچھلے جمعہ کو ہمیں یہاں سے قافلہ کی صورت میں ملٹری نے پچھلے جانے کا حکم دیا لیکن یہاں کے بھلے لوگوں نے ہمیں اس لئے روک لیا کہ حفاظت کے بغیر رستے میں لٹ بھاؤ گے اور مارے جاؤ گے کاشت اخبار ” نوائے وقت لاہور اخبار ” نوائے وقت“ نے لکھا وو قادیان کا مورچہ :- قادیان مشرقی پنجاب میں ایک قصبہ ہے جہاں مسلمان ابھی تک ڈٹے ہوئے ہیں۔خاص قادیان میں مسلمانوں کی تعداد کچھ بہت زیادہ نہ تھی کیونکہ یہ ایک چھوٹا سا قصبہ ہے مگر ارد گرد کے دیہات سے ہزاروں مسلمانوں نے اس قصبہ میں پناہ لی ہے اور اب ایک روایت کے مطابق پچاس ہزار مسلمان قادیان میں پناہ گزین ہیں۔مشرقی پنجاب کی حکومت یہ اعلان کرتی ہے کہ وہ مسلمانوں کو اس صوبہ سے نکالنا نہیں چاہتی۔مسٹر گاندھی بھی مسلمانوں سے یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ واپس آجائیں مگر قادیان کے متعلق جہاں مسلمان ابھی تک بیٹھے ہوئے ہیں حکومت مشرقی پنجاب اور حکومت ہند دونوں کی پالیسی یہ معلوم ہوتی ہے کہ مسلمانوں کو ڈرا دھمکا کر اور اگر ضرورت پڑے تو مار پیٹ کر قادیان سے نکال دیا جائے۔قادیان سے بعض معززین کی بلا وجہ گرفتاریاں ، قصبہ کا محاصرہ ، دیل تار اور ڈاک کی بندش اور قادیان پر ہوائی جہانہ کی پرواز کی ممانعت ، یہ سب حربے اسی ایک مقصد کے پیش نظر استعمال کئے جا رہے ہیں کہ مسلمان قادیان چھوڑ کر بھاگ جائیں۔ہم اس وقت اختلاف عقائد کی بحث میں نہیں پڑنا چاہتے نہ یہ وقت اس بحث کو چھیڑنے کے لئے موزوں ہے مسلمانوں سے ہماری درخواست صرف اس قدر ہے کہ اغیار کو اس وقت اس سے کوئی غرض نہیں کہ فلاں شخص کے عقائد کیا ہیں حتی کہ انہیں اب کانگرسی اور له " احسان لاہور) ۱۲ اکتوبر ۱۹۴۷ متر