تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 240
۲۳۸ قادیان" کے ماتحت کام کرنے والے نو جوان بعض اوقات پو لیس چوبیس گھنٹے کی ڈیوٹی ادا کرتے اور رات دن پہرہ دیتے ہیں۔گوئیندا در بے آرامی کی وجہ سے ان کی صحت کمزور ہو چکی ہے مگر وہ موت کے ڈر سے بھاگنے کی بجائے موت سے مقابلہ کرنے پر آمادہ ہیں۔وہاں کوئی ملٹری مسلمان نہیں ہے۔ہندو ملٹری اور سکھ پولیس انہیں ڈراتی دھمکاتی ہے۔ہندو کیپٹن بھرا ہوا پستول ہاتھ میں پکڑے دہشت پھیلانے کے لئے ادھر ادھر پھرتا رہتا ہے۔مغربی پنجاب کی حکومت اور پاکستان کے وزیر اعظم مسٹر لیاقت علی خان کو چاہئیے کہ وہاں فورا مسلمان ملٹری بھیجی بجائے اور ادھر سپیشل ٹرینیں چلائی جائیں۔ٹرینوں کے ساتھ بھی کافی مسلمان ملٹری ہونی چاہیئے۔ڈرائیور بھی مسلمان ہوں۔کیونکہ سکھ ڈرائیور کو ٹلے یا پانی کا بہانہ کر کے انجن کو گاڑی سے الگ کر لیتے ہیں اور مسلح جتھے ٹرین پر حملہ کر دیتے ہیں۔ایک ٹرین کے ساتھ کم از کم دو انجن ایک کرین اور پڑی جوڑنے کا سامان اور چند فر ضرو ر ساتھ ہونے چاہئیں۔کیونکہ خفیہ طور پر ایسی سازش کا انکشاف ہو چکا ہے کہ قادیان سے اگر کوئی ٹرین چلی تو سکھوں نے اس کو ٹوٹنے اور تباہ کر دینے کا پورا تہیہ کیا ہوا ہے۔پاکستان گورنمنٹ حالات کا مقابلہ کرنے اور پناہ گزینوں عورتوں بچوں اور بوڑھوں کو قادیان سے نکالنے کا فوری بند و بست کرے “ ۵ - اخبار" احسان" نے اسی اشاعت میں قادیان کے پچاس ہزار مسلمانوں کو بچاؤ " کے عنوان سے حسب ذیل نوٹ بھی شائع کیا :- پاکستان گورنمنٹ کی توجہ کے قابل قادیان میں اس وقت نواحی علاقہ جات سے جمع شدہ مسلمانوں کی تعداد پچاس ہزار کے قریب ہے۔یہ لوگ پچاروں اطراف سے ہندو سکھ فوج کے نرغہ میں گھرے ہوتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو قادیان سے ملحقہ علاقوں سے اپنا سب کچھ لٹا کر آئے ہیں اور اب بے طبی اور خاک بسری کے عالم میں مقیم ہیں۔حالات روز بروز بد سے بدتر ہو رہے ہیں۔اگر گورنمنٹ کی طرف سے جلد ان کو نکالنے کا انتظام نہ کیا گیا تو ڈر ہے انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح نہ کر ڈالا جائے۔خلیفہ صاحب قادیان اپنی جماعت کو یہی مشورہ دے رہے ہیں کہ قادیان کی حفاظت