تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 239
کہ " بدمعاشو ! یہاں سے نکل بھاؤ " ارستمبر کو جو کنوائے قادیان سے بٹالہ کی طرف جا رہی تھی۔پنجگرایاں میں نہر کے پل پر سکھوں نے اس پر حملہ کر دیا۔ملٹری نے فائرنگ کی حملہ آور بھاگ گئے۔قادیان کی سندو ملٹری نے یہ غلط پراپیگنڈہ کر دیا کہ سلم ملٹری نے جان بوجھ کر شرارت کی اور جاتے جاتے سات سیکھ مار دیتے ہیں۔۱۹ ۲۰ ستمبر کی درمیانی رات کو ہندو کی ان میں ڈھنڈورا پیٹا یا کہ کل یہاں سے پیدل قافلہ روانہ ہو گا اور ہم تمام پناہ گزینوں کو قادیان کی حد سے پار کر دیں گے جو قافلہ کے ساتھ نہیں جائے گا اسے شوٹ کر دیا جائے گا۔مگر ۲۰ ستمبر کو قافلہ روانہ نہ ہوا۔کیونکہ مسلمان سہندو ملٹری کے ساتھ روانہ ہونے پر تیار نہ تھے اولہ پھر اس قافلے کو ٹوٹنے اور تباہ کرنے کیلئے منظم سازش کے ماتحت سکھ دو دن تک نہر کی پڑی اور کھیتوں میں چھپے ہوئے تھے اور وہ سکھ تھانیدار کو پیغام بھیج رہے تھے کہ قافلہ بعد روانہ کرو۔۲۱ ستمبر کو قادیان میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔اس سے قبل پولیس نے بعض لڑکوں کے پاس سے قلمتراش اور غلیلیں پکڑ لی تھیں اور سکھ قادیان کے بازاروں میں لمبے لمبے پر چھے تلواریں اور بغیر لائسنس کی بندوقیں لے کر گھومتے تھے۔اس وقت جو مسلمان کھیتوں میں پھارہ کاٹنے کے لئے جاتے ہیں اُن کو پولیس پکڑ لیتی ہے اور کہتی ہے کہ یہ ہندوستان کے کھیت ہیں تم چارہ نہیں کاٹ سکتے۔شاید کل پولیس یہ کہہ کر کہ قادیان میں جو مسلمان مقیم ہیں وہ ہندوستان میں ہیں اس لئے یہ سانس بھی نہیں لے سکتے تمام مسلمانوں کو ہلاک کر دے۔قادیان کے نوجوان ملٹری کے جبر و تشدد کے باوجود خوفزدہ نہیں۔وہ صرف اس بات کے خواہشمند ہیں کہ عورتوں بچوں اور بوڑھوں کو یہاں سے نکال دیا جائے وہ خوب جانتے ہیں کہ اب وہ آہستہ آہستہ موت کے گھیرے میں آتے جاتے ہیں اور نہرو کی وہ حکومت جو کہتی تھی کہ کسی مسلمان کو مشرقی پنجاب سے نکلنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا وہ قادیان کے مسلمانوں کو وہاں سے زہر دستی نکلوانے اور انہیں تباہ کرنے پہ تکی ہوئی ہے " محکمہ حفاظت