تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 238
۲۳۶ کہ ہم گولیوں سے ڈرنے والے نہیں۔کافی رد و قدح کے بعد مری واپس چلی گئی۔۱۸۰ ستمبر کو نگل خورد کے چند آدمی مویشی چرا رہے تھے کہ سکھوں نے حملہ کر دیا۔مویشی بھگا کر لے گئے۔پولیس اور ملٹری کو رپورٹ کی گئی مگر وہ سپاہی ہنس کر چُپ ہو گئے۔قادیان میں جو پناہ گزین جمع تھے ان کو قافلہ کی صورت میں روانہ کرنے کا خیال تھا۔ا ستمبر کو سکھوں کا ایک وفد تھانیدار سے ملا اور اس نے کہا کہ ہم مسلمانوں کو ایک پائی تک ساتھ نہیں لے جانے دیں گے۔استمبر کو ملٹری کیپٹن نے اعلان کیا جو شخص قافلے کے ساتھ نہیں بجائیں گے ان کی حفاظت کے ہم ذمہ دار نہیں تھا بیدار نے جیپ کار میں سوار ہو کر سکھوں کے گاؤں کا دورہ کیا۔اور انہیں بتایا کہ قافلہ آنے والا ہے تیار ہو جاؤ ایک بھی شخص بچ کر نہ جائے سکھ گھروں سے نکل کر کھادوں میں بیٹھ گئے۔ستمبر کو ملٹری نے سکھوں کو اسلحہ دے کر کھارا کے مسلمانوں پر حملہ کرایا اور جب مسلمان قادیان کی طرف پہلے تو کوئی چیز ساتھ نہیں لینے دی حتی کہ آٹا وغیرہ بھی چھین لیا۔ان کے مکانوں کو تباہ کیا چھت کی کڑیاں شہتیر اور دروازہ سے اُکھاڑ کر لے گئے۔اسلام آباد جو قادیان کا ایک محلہ ہے پہلے ہی تعالی ہو چکا تھا اور وہاں سکھ آباد ہو گئے تھے۔14 ستمبر کو تکیہ کمال الدین پر قبضہ کیا گیا اور اس دن محلہ دار الساعی کے پر سکھوں نے حملہ کر دیا۔اہل قادیان نے ملڑی کے سپاہیوں کو اطلاع دی جو والی بال کھیل رہے تھے مگر انہوں نے جواب دیا کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔پھر چند نہتے نوجوان آگے بڑھے اور سکھوں کو بھگا دیا۔۱۴ ستمبر کو تحصیلدار نے چند سکھوں کو نگل نزد قادیان میں بسانے کے لئے بھیجا جان کہ نشگل میں مسلمان آباد تھے۔19 ستمبر کو تھانیدار نے پولیس کی مدد سے نگل کے مسلمانوں کو زیر تی وہاں سے نکال دیا اور اُن کا سامان لوٹ لیا۔۲۰ ستمبر کو محلہ قادر آباد کے مسلمانوں کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔ان کی مشکلیں باندھیں قائم کئے۔لاٹھیوں سے زد و کوب کیا اور تھانیدار ہزارہ سنگھ نے مسلمانوں کو گالیاں دیں۔: مراد دار السعنه (ناقل) :