تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 236
م ۲۳ سے مسلمانوں کی تلاشیاں کی جارہی ہیں اور مسلمانوں کو لائسنس والے اسلحہ سے بھی محروم کیا جارہا ہے۔امیر جماعت احمدیہ کے اقامت گاہ کی بھی تلاشی لی گئی ہے اور پولیس اس اسلحہ آتشیں اور کارتوسوں کو بھی لے گئی ہے جن کے لئے باقاعدہ طور پر لائسنس حاصل کئے گئے تھے۔اس امر کا شدید خطرہ ہے کہ اب غیر متوقع واقعات پیش آئیں گے اور حکام فر یہ کہہ دیں گے کہ جھتے ہمارے کنٹرول سے باہر ہیں" ۳۔اسی اخبار (احسان) نے اگلے دن (۲۵ ستمبر کو ) یہ خبر شائع کی۔وں ہور ۲۲ ستمبر کل احمدیوں کے وقد نے بیا اندھر میں ڈاکٹر گوپی چند بھارگونہ اور مسٹر سورن سنگھ وزیر داخلہ مشرقی پنجاب سے ملاقات کی۔دونوں وزیروں نے انہیں اطمینان دلایا کہ حکومت مشرقی پنجاب مسلمانوں کو نکالنا نہیں چاہتی۔وفد کے استفسار کرنے پر وزیروں نے کہا، کہ قادیان میں کر فید آرڈر اس لئے لگایا گیا ہے کہ قادیانیوں نے موضع کھارہ متصل قادیان) میں چھار سکھوں کو گولیوں سے مجروح کیا۔۲۶ ستمبر کو کابینہ مشرقی پنجاب کے اجلاس میں قاریان کی حالت پر غور ہو گا۔وفد نے کہا کہ موضع کھارہ میں کسی احمدی نے کسی سکھ پر گولی نہیں چلائی بلکہ واقعہ یہ ہے کہ موضع کھارا پر مسلح سکھوں نے حملہ کیا تھا اور وہاں گولیوں کا تبادلہ ہوا تھا جس کے نتیجے پر چند سکھ ہلاک و مجروح ہوئے۔کیا ایک قریبی گاؤں کے واقعات کی وئید ے قادیان میں کرفی آرڈر گانا درست ہے سکھوں اور سامانوں میں گونیوں کے مبادلے کی چہ یہ ہے کہ سکھوں نے پیدل بجانے والے قافلہ پر حملہ کر دیا تھا۔سکھوں پر گولی محافظ فوج کی طرف سے پھلائی گئی تھی۔فوج کے قصور پہ قادیان کو سزا دینا درست نہیں۔“ ہ احسان کے اسی پر چہ میں قادیان کے باشندوں پر سکھ فوج اور پولیس کے بے پناہ مامان لوگوں نے آخری وقت تک مقابلہ کی ٹھان لی“ کے زیر عنوان حسب ذیل مضمون چھپا :- در آخر قادیان کے متعلق بھی ہندوؤں اور سکھوں کی سازشیں بروئے کار آگئیں۔۲۱ ستمبر سے شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔تازہ اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ سکھ پولیس اور ہندو ملٹری کی مدد سے قادیان میں تباہی مچانا چاہتے ہیں۔اس وقت قادیان میں کم از کم ڈیڑھ لاکھ پناہ گزین جمع ہیں۔ہندو ملٹری اور سکھ پولیس کے ظلم و ستم اور آئین سوز حرکات کے باوجود