تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 237
۲۳۵ قادیان کے نوجوان ہراساں نہیں ہوئے۔وہ خندہ پیشانی کے ساتھ موت کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔حکومت کو چاہیے کہ وہاں سے عورتوں اور بچوں اور بوڑھوں کو بجلد از جلد پاکستان میں لے آئے۔نامہ نگار کی تازہ رپورٹ درج ذیل ہے : ار ستمبر کو چوہدری سلطان ملک ذیلدار ڈیری والہ کو جو علاقہ کے معززین میں سے ہیں۔قادیان کے سکھ تھانیدار نے گرفتار کر لیا۔انہیں گالیاں دیں۔مونچھیں کھینچیں اور پھر منہ پر سیاہی اور کیچڑ لگا کر تمام علاقہ میں گشت کروایا اور چوہڑوں سے جوتے مروائے گئے۔مراد پور کے مسلمان قادیان آرہے تھے کہ ڈلہ کے مقام پر سکھوں نے ان کا سب سامان لوٹ لیا۔وہ سامان گوردوارہ میں منتقل کر دیا گیا۔جب قادیان کے تھانیدار کو اطلاع دی گئی تو اس نے الٹی مسلمانوں کو گالیاں دیں اور شہادتوں کے باوجود کوئی ایکشن نہیں لیا۔ار ستمبر کو تلونڈی کے مسلمانوں کو پولیس نے کما د میں بیٹھ کر شوٹ کیا۔۵ار اور 14 ستمبر کو قادیان میں سکھوں کے بجھتے خالص مسلم آبادی میں پھرتے رہے۔اور انہوں نے بازار میں لائن بنا کر جلوس بھی نکالا۔جب جلوس نکالا گیا تو اس وقت سکھ برچھیوں ، تلواروں اور دیسی ساخت کی بندوقوں سے مسلح تھے۔پولیس اور ملٹری نے انہیں منتشر کرنے کا کوئی اقدام نہیں اُٹھایا۔جب پولیس کو کہا گیا کہ مسلم آبادی کی گلیوں میں سکھوں کا یوں مسلح ہو کر پھرنے کا مطلب کیا ہے تو تھانیدالہ نے جواب دیا کہ ہم شریف آدمیوں کو چلنے پھرنے سے نہیں روک سکتے۔ایک ہوائی جہانہ قادیان پر دو دن پرواز کرنے آیا۔ملٹری نے اس پہ فائرنگ کی مگر ہوائی جہاز بیچ کر نکل گیا۔سکھ پولیس نے پچوہدری فتح محمد سیال ایم ایل اے اور سید زین العابدین کی اللہ شاہ ناظر امور عامہ قادیان کی گرفتاری کے علاوہ ان کے مکانوں کی تلاشی لی اور لائسنس والا اسلحہ بھی قابو کر لیا۔پھر ملٹری نے تعلیم الاسلام کالج کا محاصرہ کر لیا اور کہا کہ ہم تلاشی لیں گے مگر محکمہ حفاظت قادیان کے پہرہ داروں نے تلاشی دینے سے انکار کر دیا۔ملٹری کے سہندو کیپٹن نے نہایت مغرورانہ انداز میں کہا کہ ہم شوٹ کر دیں گے۔پہرہ داروں نے جواب دیا