تاریخ احمدیت (جلد 10)

by Other Authors

Page 235 of 490

تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 235

" اخبار " احسان " لاہور نے لکھا :- اختبار احسان لاہور 1 - " قادیان میں اس وقت میں ہزار کے قریب پناہ گزین جمع ہیں سکھوں نے آٹھ آٹھ نو نو میل تک مسلم دیہات کو تباہ کر دیا ہے اور پھر قادیان کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔راشن کا بھی شدید خطرہ ہے۔مغربی پنجاب کی حکومت وہاں فورا ریلیف کیمپ قائم کرے اور جلد از جلد وہاں پاکستان کی فوج مقرر کی جائے تا پناہ گزینوں کو جانی اطمینان ہو جائے “ سے وٹو اسی اخبار نے ۲۴ ستمبر شاہ کو مندرجہ ذیل دو خبریں شائع کیں :- (الف) لاہور ۲۲ ستمبر 19 ستمبر کو مسلح سکھوں نے قادیان کے ایک شمال مشرقی محلے پر ہلہ بول دیا لیکن کارگر نہ ہوا۔اس کے بعد پولیس نے اہل محلہ کی تلاشیاں شروع کر دیں پولیس جانتی ہے کہ حملے ہو رہے ہیں پھر بھی وہ اسلحہ کے لئے تلاشیاں لے رہی ہے اور اس کی یہ حرکت معنی خیز ہے۔تقاضائے وقت یہ تھا کہ پولیس مسلمانوں کو معمولی سے اسلحہ سے محروم کرنے کی بجائے مسلح جنتوں کے قلع قمع کی طرف توجہ دیتی جو فتنہ و فساد اور قتل و غارت پر تلے بیٹھے ہیں سکھوں نے موضع ننگل (قادیان سے آدھ میں دور ) پر قبضہ کر لیا ہے۔پولیس نے اس وقت تک حملہ آور سکھوں پر گولی نہیں چلائی اور اگر اس کی یہی رفتار رہی تو فساد کے بڑھ بھانے میں کوئی کسر نہ رہے گی۔کل قادیان سے ایک قافلہ چلا تھا۔لیکن سکھوں نے قادیان اور بٹالہ کے درمیان اس پر ہلہ بول دیا۔لیکن قافلہ کے فوجی محافظ ٹس سے میں نہ ہوئے " (ب) " لاہور ۲۲ ستمبر۔سکوٹری انجمین احمدیہ نے اعلان کیا ہے کہ ۲۱ ستمبر سے قادیان میں شام کے اربجے سے صبح کے ہ بجے تک کرفیو لگا دیا گیا ہے۔اگر یہ اقدام حقیقی طور پر قیام امن کے لئے ہو تو مسلمان اس کے لئے ممنون ہوں گے لیکن اگر اس اقدام کا مطلب صرفت یہ ہو کہ اس کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف فتنہ و فساد بر پا کرنے والی طاقتوں کو بھڑکا یا جائے اور مسلمانوں کے پاس دفاع کا جو معمولی سا سامان رہ گیا ہو۔اس سے بھی انہیں محروم کر دیا جائے تو یہ بڑا افسوسناک ہوگا۔غیر سرکاری اطلاعات سے معلوم ہوا ہے کہ پولیس کی طرف ه: استان در امبر ۱۴ مرده