تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 227
۲۲۵ کے مظاہر سے کر رہی ہے۔اگر پاکستان کی مسلمان ملٹری قادیان میں مقیم مسلمانوں کی حفاظت کے لئے نہیں بھیجی جا سکتی تو کم از کم انہیں جواب ہی دے دیا جائے۔قاریان بیرونی دنیا سے بالکل منقطع ہو چکا ہے۔واہگہ تک تمام راستے پر خطر ہو چکے ہیں۔قادیان کے مجاہدین موت سے نہیں ڈرتے بلکہ وہ اس موت کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں جو منہ کھولے ہوئے ان کی طرف بڑھ رہی ہے۔وہ صرف پناہ گزینوں بوڑھوں عورتوں اور بچوں کو جلد سے جلد پاکستان بھیج دینا چاہتے ہیں تاکہ وہ آنے والی موت کے ساتھ بے فکر ہو کہ لڑ سکیں۔ہمارے نامہ نگار نے محکمہ حفاظت قادیان کے ماتحت کام کرنے والے نوجوانوں سے بھی ملاقاتیں کیں۔یہ نوجوان ساری ساری رات بھاگتے اور پہرہ دیتے ہیں۔ان میں سے اکثر کو جو میں چوبیس گھنٹے کی ڈیوٹیاں ادا کرنی پڑتی ہیں۔ان کے بدن تھکے ہوئے، آنکھیں سوجی ہوئی، اعضاء مضمحل ہیں لیکن اس کے باوجود وہ خوفزدہ نہیں بلکہ مسرور و شادماں نظر آتے ہیں جب ان سے پوچھا جاتا ہے " کیا تم لاہور جانا چاہتے ہو تو وہ جواب دیتے ہیں ہم موت سے ڈر کر بھاگنا نہیں چاہتے بلکہ موت کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں" پہرہ داروں میں سے ایک نوجوان نے جس کی عمر صرف پندرہ سال کی تھی ہمارے نامہ نگار کو کہا کہ "پہلے ہمارے ارد گرد سکھوں کا گھیرا تھا۔مگر اب ہمیں پچاروں طرف مروت نظر آرہی ہے۔یہ موت کیا ہے۔ہندو سکھ مری جو ہمیشہ اسی تاک میں رہتی ہے کہ کب موقعہ ملے تو وہ ہمیں ہلاک کر دے لیکن ہم موت سے نہیں ڈرتے " قادیان کے اردگرد کے دیہات کو مسلمانوں سے صاف کر کے اور وہاں سکھوں کو یسا کہ اب ہندو ملٹری قادیان تک محلوں پر جمنے کروا رہی ہے۔پہلے قادیان کے ایک محلے اسلام آباد کو زہر دستی خالی کروایا گیا جو آریہ ہائی سکول اور ریلوے لائن کے ساتھ ہے۔پھر پولیس نے دوسرے محلے قادر آباد کے مسلمانوں کو گرفتار کیا۔ان کے ہاتھ پیچھے کی طرف باندھ دیئے۔فائر کئے۔انہیں راکھیوں سے زدو کوب کیا اور ہزارہ سنگھ تھانیدار نے انہیں گالیاں دیں کہ بد معاشو یہاں سے نکل جاؤ، تم کیوں نہیں نکلتے۔پھر ملڑی نے بھی وہاں پہنچ کر پولیس