تاریخ احمدیت (جلد 10) — Page 226
۲۲۳۷ تنگل پہنچا اور مسلمانوں سے کہا کہ تنگ گوفر آغالی کر دو جو نہیں کرے گا اسے شوٹ کر دیا جائے گا مجبوراً مسلمان اپنا سب سامان چھوڑ کر آگئے۔اسی طرح کڑی افغاناں نزد بیاس کے مسلمانوں کے ساتھ ہوا۔اور ان بیچاروں کو فر پندرہ منٹ کا نوٹس دیا گیا کہ گاؤں کو خالی کر دو۔جب قافلہ قادیان کی طرف روانہ ہوا تو پیچھے سے سکھوں کے ایک سیوست مجھے نے حملہ کر کے اُن کا سامان لوٹ لیا اور کئی مسلمان شہید ہوئے۔سیکھ پولیس اور سہندو ملٹری نے قادیان کو زیر کرنے کے لئے اس کے تمام ملحقہ دیہات زیر دستی خالی کروائے اور اس طرح مشرقی پنجاب اور ہند وستھان کی حکومتوں کے منہ پر اپنے ہاتھوں سے سیاہی ملی جو یہ کہتی تھی کہ مشرقی پنجاب میں سے کسی کو زبر دستی نہیں نکالا جائے گا۔لیکن جب ان محکومتوں کو توجہ دلائی گئی کہ دیکھو کیا ہو رہا ہے تو وہ مندر کی مورتی کی طرح ٹس سے مس نہ ہوئیں۔اس وقت قادیان میں کم از کم ڈیڑھ لاکھ پناہ گزین موجود ہیں جو ہند و ملٹری اور سکھ پولیس کے رحم و کرم پر پڑا ہے۔ہمارے نامہ نگار نے ان پناہ گزینوں سے مختلف قسم کے سوالات دریافت کئے اور خصوصیت کے ساتھ ایک بات کے متعلق تمام مسلمان حیران و ششدر ہیں اور وہ یہ کہ جب مسٹر لیاقت علی خان اور پنڈت جواہر لعل نہرو کے درمیان یہ بات طے پا چکی ہے کہ مغربی پنجاب کے غیر مسلموں کی حفاظت ہندو سکھ ملٹری کرے گی اور مشرقی پنجاب میں مسلمان پناہ گزینوں کی حفاظت مسلمان ملٹری کرے گی تو پھر قادیان جس میں اس وقت ڈیڑھ لاکھ مسلمان پڑے ہیں ان کے اوپر کیوں ہندو ملٹی چھوڑی گئی جو غریب مسلمانوں کو ڈراتی اور دھمکاتی ہے۔قادیان کے پناہ گزین مسلمان پاکستان کے وزیر اعظم مسٹر لیاقت علی نعال سے دریافت کرتے ہیں کہ پاکستان کی مسلم فوج کہاں ہے وہ کیوں قادیان میں نہیں پہنچتی ؟ کیا ڈیڑھ لاکھ مسلمانوں کی جانیں ان کے نزدیک کوئی حقیقت نہیں رکھتیں۔ایک طرف سیکھ پولیس ہے دوسری طرف ہندو ملٹری جو آنکھیں سرخ کئے تیوریاں چڑھائے عہد گذشتہ کے مصری فرعونوں کی طرح ظلم و استبداد اور غرور و نخوت